[ad_1]
کیا آپ کسی فرد کی جذباتی کیفیت کو جاننا چاہتے ہیں؟ اگر ہاں تو اس کے چلنے کے انداز کو غور سے دیکھیں۔
یہ دلچسپ دعویٰ ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا جس کے مطابق صرف چہرے کو غور سے دیکھ کر ہی آپ کسی فرد کی اندرونی کیفیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے، بلکہ اس کے چلنے کے انداز خاص طور پر بازوؤں اور ٹانگوں کو حرکت دینے کے انداز سے بھی کافی کچھ جانا جاسکتا ہے۔
جاپان کے ایڈوانسڈ ٹیلی کمیونیکیشنز ریسرچ انسٹیٹیوٹ انٹرنیشنل کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چلنے یا چہل قدمی کے دوران پورا جسم متحرک ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ چلنے کے انداز سے جذباتی کیفیت کو بھانپا جاسکتا ہے۔
اس تحقیق کے دوران محققین نے رضاکاروں کو ویڈیو کلپس دکھا کر لوگوں کے جذبات کا اندازہ لگانے کا کہا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا کہ جب کوئی ہاتھوں کو زیادہ جھلاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ غصے میں ہے، اگر معمولی حرکت دیتا ہے تو یہ خوف یا اداسی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ ہم سب بہت تیزی سے لوگوں کے جذبات کا تجزیہ کرسکتے ہیں اور اس کے لیے چہرہ دیکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، بس ان کو چلتے ہوئے غور سے دیکھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ اگر ہاتھ اور پیر زیادہ جھولتے ہوئے نظر آتے ہیں تو زیادہ امکان یہی ہوتا ہے کہ آپ مشتعل ہیں، معمولی حرکت اداسی یا خوف کا اشارہ ہوسکتی ہے۔
اس تحقیق کے لیے محققین نے اداکاروں کی خدمات حاصل کیں اور انہیں کہا کہ وہ ایسے واقعات کو یاد کریں جن کے دوران انہیں غصے، خوشی، خوف یا اداسی کا سامنا ہوا اور یہ یاد کرتے ہوئے کچھ فاصلے تک چہل قدمی کریں۔
ان افراد کو ایسے ٹریکرز پہنائے گئے جن سے وہ چہرے کے تاثرات یا دیگر جسمانی اشاروں کے بغیر چہل قدمی کو ریکارڈ کرسکیں۔
ان ویڈیوز کو رضاکاروں کو دکھا کر ان کی رائے معلوم کی گئی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر غور کیا جائے تو کوئی بھی فرد زیادہ مؤثر انداز سے دیگر فرد کی جذباتی کیفیت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل رائل سوسائٹی اوپن سائنس میں شائع ہوئے۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply