پشاور کی بلند عمارتوں میں بھی آگ بجھانے کے مکمل انتظامات نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
کراچی گل پلازہ میں رونما ہونے والے سانحے نے کئی جانیں نگل لیں اور اب یہی خطرہ پشاور میں بھی موجود ہے جہاں کمرشل پلازوں کی تعداد تقریباً 4 ہزار ہے۔
پشاور میں 2020 سے اب تک مزید 1600 پلازوں کی منظوری دی گئی جن میں تقریباً 100 کثیر المنزلہ عمارتیں بھی ہیں لیکن یہاں بھی حفاظتی اقدامات پر عمل مناسب طریقے سے نہیں ہورہا۔
کراچی گل پلازہ واقعہ کے بعد خیبر پختونخوا حکومت بھی حرکت میں آ گئی جبکہ کمرشل بلڈنگز میں اسٹینڈرڈز کے نفاذ کے لیے متعلقہ حکام کو ذمہ داریاں بھی سونپ دیں۔ ان اسٹینڈرڈز میں انسپیکشن کا جامع نظام، حفاظتی اقدامات اور ایمرجنسی سروسز کا بندوبست شامل ہے۔
کمرشل پلازوں اور ہائی رائزبلڈنگز کے معاینہ کے لیے چند ماہ قبل باقاعدہ خیبر پختونخوا بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنزکے نام سے ایک اتھارٹی بھی قائم کی گئی۔ تاہم یہ اتھارٹی ابھی تک کوئی مؤثر کارروائی نہ کرسکی جبکہ بیشترعمارتوں میں قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
اتھارٹی نے دسمبر 2024 میں 68 صفات پر مشتمل اسٹینڈرڈز بھی جاری کیے تھے۔
تجارتی مراکز میں قوانین کی خلاف ورزی پر خیبر پختونخوا بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز اتھارٹی نوٹس جاری کرتی ہے تاہم جرمانہ یا سزا دینا ضلعی انتظامیہ کا اختیار ہوتا ہے۔ نوٹس کے بعد جرمانہ صرف 5 ہزار روپے تک محدود ہے جبکہ چند روز کی قید کا اطلاق بھی کبھی کبھار ہوتا ہے۔
ہائی رائز بلڈنگز میں لازمی آلات میں فائر الارم اور فائر ایکسٹنگوشر سسٹمز،ایمرجنسی ایگزٹ اورایمرجنسی لائٹنگ شامل ہے۔ اسی طرح چھوٹے پلازوں میں بھی بنیادی حفاظتی آلات جیسے فائر الارم، ایگزٹ اور سیفٹی پلان رکھنا لازمی ہیں۔
اتھارٹی کے قیام سے قبل ٹی ایم اے کو کمرشل پلازوں کے لیے قواعد و ضوابط بنانے اور ان پر عمل درآمد کا اختیار حاصل تھا۔ اسٹینڈرڈز کی خلاف ورزی کے باوجود پشاور میں کسی بھی کمرشل یا بلند عمارت کے خلاف مؤثر کارروائی ریکارڈ میں شامل نہیں کی گئی۔
اس کے علاوہ ریسکیو 1122 کے پاس بھی آگ بجھانے کے جدید آلات نہیں، تاریخی قصہ خوانی بازار میں فائر سیفٹی قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے، تنگ گلیوں، بوسیدہ اور لٹکتے ہوئے بجلی کے تاروں سے کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ ہونے کا خدشہ ہے۔
گزشتہ برس حیات آباد انڈسٹریل اسٹیٹ، صدر بلور پلازا اور نوتھیا بازار سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں آگ لگنے کے واقعات میں درجنوں دکانیں اور املاک لپیٹ میں آئیں، حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی بڑی وجہ ناقص الیکٹریکل وائرنگ اور شارٹ سرکٹ ہے جس پر نہ کسی کا کنٹرول ہے اور نہ نظر ۔


























Leave a Reply