بھارت کے معروف اداکار پراکاش راج نے ہندی فلموں کو پلاسٹک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندی فلمیں صرف ظاہری چمک دمک تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پراکاش راج نے کیرالہ لٹریچر فیسٹیول کے دوران مین اسٹریم ہندی سنیما پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صنعت اپنی اصل شناخت اور جڑوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
ہفتے کے روز ہونے والے اس ادبی میلے میں گفتگو کرتے ہوئے پراکاش راج نے ہندی سنیما کا موازنہ ملیالم اور تامل فلم انڈسٹری سے کیا، جنہیں انہوں نے مضبوط اور بہترین کہانیوں کی وجہ سے سراہا۔
پراکاش راج نے کہا کہ موجودہ دور میں ملیالم اور تامل سنیما نہایت مضبوط فلمیں بنا رہے ہیں، جبکہ ہندی فلمیں صرف ظاہری چمک دمک تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کے تناظر میں مجھے لگتا ہے کہ ملیالم اور تامل سنیما بہت مضبوط فلمیں بنا رہے ہیں، جبکہ ہندی سنیما اپنی جڑیں کھو چکا ہے۔ سب کچھ خوبصورت اور شاندار نظر آتا ہے، مگر پلاسٹک جیسا، جیسے مادام تساؤ میوزیم میں ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں ساؤتھ انڈین فلمیں کہانی اور سماجی موضوعات پر مضبوطی سے قائم ہیں، وہیں ہندی سنیما میں تماشہ کنٹینٹ پر حاوی ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق تامل سنیما کے نوجوان ہدایتکار دلت مسائل جیسے موضوعات پر فلمیں بنا رہے ہیں، جو امید کی کرن ہے۔
پراکاش راج نے کہا کہ ہمارے ساؤتھ کے پاس اب بھی کہانیاں ہیں جو سنائی جانی چاہییں، اور یہی چیز امید دلاتی ہے۔
پراکاش راج نے ہندی سنیما کو مصنوعی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری دباؤ نے فلمسازوں کو ایسی چیزوں پر توجہ دینے پر مجبور کر دیا ہے جو صرف باکس آفس کی کامیابی کو یقینی بنائیں، چاہے اس کے بدلے حقیقی کہانی قربان ہی کیوں نہ ہو۔
پراکاش راج کے مطابق گلیمر اور سطحی کشش کے بڑھتے رجحان نے ہندی سنیما اور عوام کے درمیان جذباتی رشتہ کمزور کر دیا ہے۔


























Leave a Reply