دنیا فوسل ایندھن سے قابل تجدید توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے، جسے منصفانہ توانائی کہا جاتا ہے، یعنی ایسی منتقلی جس میں کوئی کمیونٹی پیچھے نہ رہ جائے، مگر ٹھٹہ کا علاقہ جھمپیر چراغ تلے اندھیرے کی جیتی جاگتی مثال ہے۔
جھمپیر پاکستان کے سب سے اہم ونڈ کوریڈورز میں سے ایک ہے جہاں تقریباً 36 آئی پی پیز مسلسل تیز ہوا سے بجلی پیدا کرکے ملک کی توانائی میں نمایاں حصہ ڈال رہے ہیں۔
قومی گرڈ کے لیے ونڈ انرجی سے بجلی پیدا ہونے کے باوجود جھمپیر کی مقامی کمیونٹی آج بھی بجلی سے محروم ہے۔
یہاں فلک بوس ونڈ ٹربائنز دن رات گھومتی ہیں، ملک کے شہروں کو بجلی دیتی ہیں، لیکن انہی کے سائے تلے بسنے والے گاؤں سورج ڈھلتے ہی تاریکی میں گم ہوجاتے ہیں، جھمپیر کے 15 سے زائد گاؤں 19 سال سے اس محرومی کو جھیل رہے ہیں۔
قومی گرڈ کے لیے بجلی پیدا ہونے کے باوجود ضلع ٹھٹہ کے علاقے جھمپیر کی مقامی آبادی آج بھی بجلی، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولیات سے محروم ہے، جو توانائی کی ناانصافی کی واضح مثال ہے۔
اپنی آواز حکام بالا تک پہنچانے کے لیے جھمپیر کی رہائشی خواتین نے مچھ کچہری لگاکر احتجاج کیا اور علاقے میں بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ مچھ کچہری سندھ کی ثقافت کا اہم حصہ ہے جو ایک طرح کا سماجی اجتماع ہوتا ہے اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ خواتین نے اس طرح کی مچھ کچہری کا اہتمام کیا۔
مقامی خواتین کا کہنا تھا کہ کئی بار مقامی لوگ پرامن احتجاج کرچکے ہیں مگر بعض اوقات انہیں قانونی کارروائی سے خاموش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس حوالے سے متعلقہ آئی پی پیز اور مقامی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے باوجود کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔


























Leave a Reply