[ad_1]
بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حتمی حکم نیتن یاہو سےگفتگو کےبعد دیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق ایران پر حملےسے48گھنٹے پہلےنیتن یاہو نے ٹرمپ سےٹیلی فون پربات کی تھی، اسی ہفتےکے اوائل میں ٹرمپ اورنیتن یاہوکو انٹیلی جنس بریفنگز دی گئی تھیں، انہیں بتایاگیا تھاکہ خامنہ ای اور ان کےاہم مشیروں کا اجلاس تہران میں ہونے والا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو نےکہاکہ خامنہ ای کو قتل کرنےکا اس سےبہترموقع نہیں مل سکتا، ایرانی قیادت کوختم کرکےٹرمپ تاریخ رقم کرسکتےہیں، واضح نہیں کہ یہی عنصر امریکی صدر کےفیصلےمیں فیصلہ کن ثابت ہوا۔
رپورٹ کے مطابق اس سےقبل امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نےقانون سازوں کوبتایا تھاکہ امریکاکو اس تنازع میں گھسیٹاجاسکتا ہے، ایران میں جنوری کے واقعات کےبعدامریکا اور اسرائیل کی جنگی منصوبہ بندی میں تیزی آئی، جنگی منصوبہ بندی کےدوران نیتن یاہونےحملےکےحق میں لابنگ مہم چلائی۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان سے سوال ہوا کہ کیا امریکا کونیتن یاہونےجنگ میں گھسیٹا؟ جس پر ترجمان وائٹ ہاوس نے جواب دینے سے گریز کیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق اس بات چیت سے پہلےہی ٹرمپ ایران پرحملےکی منظوری دے چکےتھے، ٹرمپ نےنہ وقت کا تعین کیاتھا،نہ ہی یہ طےکیاتھاکہ کن حالات میں حملہ کرنا ہے، امریکی فوج نےکئی ہفتوں تک خطےمیں اپنی موجودگی بڑھائی تھی،حملےکی ایک ممکنہ تاریخ چنددن پہلےکی تھی جوخراب موسم کی وجہ سےمنسوخ کردی گئی۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply