دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امراض قلب سے ہوتی ہیں اور مردوں میں یہ شرح خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔
اب ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ وہ کونسی عمر ہے جب مردوں میں امراض قلب کا خطرہ تیزی سے بڑھنے لگتا ہے۔
درحقیقت مردوں میں امراض قلب کا خطرہ خواتین کے مقابلے میں 7 سال قبل ہی بڑھنے لگتا ہے۔
یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
نارتھ ویسٹرن یونیورستی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ مردوں میں امراض قلب کا خطرہ 30 سے 40 سال کے درمیان بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔
30 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر 30 سال کے بعد امراض قلب کی اسکریننگ کو معمول بنا لیا جائے تو ان سے ہونے والی اموات کی شرح میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس تحقیق میں 5100 سے زائد افراد کو شامل کیا گیا جن کی عمریں 1980 کی دہائی کے وسط میں 18 سے 30 سال کے درمیان تھیں اور ان کی صحت کا جائزہ 2020 تک لیا گیا۔
تحقیق کے آغاز میں سب افراد صحت مند تھے اور اسی وجہ سے محققین یہ جاننے میں کامیاب رہے کہ امراض قلب کا خطرہ کب بڑھنا شروع ہوتا ہے۔
تحقیق کے مطابق مردوں میں یہ خطرہ خواتین کے مقابلے میں کئی سال قبل بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔
یعنی 50 سالہ مرد میں یہ خطرہ اس عمر کی خاتون کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
اسی طرح ہارٹ فیلیئر اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ مردوں میں جلد بڑھتا ہے البتہ فالج ایسا مرض ہے جس کا خطرہ لگ بھگ ایک جیسا ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ امراض قلب بڑھنے کا عمل دہائیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور جوان افراد میں ان کی ابتدائی علامات کو پکڑنا ممکن ہے۔
تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے عوامل امراض قلب کا خطرہ بڑھاتے ہیں مگر حیران کن طور پر خواتین کے مقابلے میں مردوں میں یہ خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ 35 سال کی عرم مردوں کے لیے اہم ہوتی ہے جس کے بعد ان میں امراض قلب کا خطرہ تیزی سے بڑھنے لگتا ہے اور یہ سلسلہ درمیانی عمر میں برقرار رہتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply