وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی کل ایرانی صدر سے گفتگو ہوئی اور اسی سلسلے میں سعودی عرب گئے، امید ہے معاملات بہتر ہوں۔
جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ایران کسی صورت مسلمان ممالک خاص طور پر سعودی عرب کو ٹارگٹ نہ کرے، ہماری قیادت پوری طرح سے مسلم ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی کل ایرانی صدر سے گفتگو ہوئی اور اسی سلسلے میں سعودی عرب گئے، سعودی عرب کے ساتھ ہم دفاعی معاہدے میں ہیں اور ہم اس کے پابند ہیں، امید ہے کہ کل کے سعودی عرب اور ایرانی صدر سے بات کے بعد معاملات بہتر ہوں۔
ان کا کہنا تھاکہ سعودی عرب کی اچھی پالیسی ہے کہ خود ری ایکٹ نہیں کررہے ، سعودی عرب خود ری ایکٹ نہیں کررہا تو دوسرے سے ایسی خواہش کا اظہار کیوں کرے گا؟
انہوں نے کہا کہ افغانستان پر نہ قبضہ کرنا نہ ان کا نقصان چاہتے ہیں ہم تو اپنا نقصان ہونے سے روکنا چاہتے ہیں۔
گورنر سندھ کے معاملے پر رانا ثنا کا کہنا تھاکہ طے ہوا تھا کہ بلوچستان اور سندھ کا گورنر ن لیگ سے ہوگا، ایم کیو ایم سے کبھی یہ وعدہ نہیں تھا کہ گورنر سندھ ایم کیو ایم کا ہوگا، کامران ٹیسوری نگراں حکومت سے چلے آرہے تھے تو فوری تبدیل کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ معاملات ٹھیک چل رہے تھے تو کامران ٹیسوری کو تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اب ایسی صورتحال پیدا ہوئی کہ گورنرسندھ کو تبدیل کرنا پڑا، مناسب سمجھا گیا کہ اس صورتحال کو تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھاکہ کامران ٹیسوری کا تقررنگراں سیٹ اپ میں ہوا تھا ، انوار الحق کاکڑ بتا سکتے ہیں کہ کامران ٹیسوری کا تقرر کس کی سفارش پر ہوا۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ گورنر کی تبدیلی سے متعلق ایم کیو ایم سے طریقے اور سلیقے سے بات ہوتی رہی ہے، ایم کیو ایم کا سندھ کے گورنر سے متعلق مطالبہ ہی نہیں تھا، ایم کیو ایم کے کراچی سے متعلق مطالبات پورے کیے اور مزید بھی کوشش کریں گے، جب طے ہوا کہ گورنر ن لیگ سے ہوگا تو ایم کیو ایم نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔
خیال رہے کہ دو روز قبل وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا اور گزشتہ روز شہباز شریف ایک روزہ دورے پر سعودی عرب گئے تھے جہاں ان کی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی تھی۔


























Leave a Reply