ملک کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری نے نظام زندگی کو جما کر رکھ دیا، بالائی علاقوں میں کئی کئی فٹ برف پڑچکی ہے جس کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔
خیبرپختونخوا میں برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، وادی کاغان میں برف باری سے رابطہ سڑکیں بند ہونے کے بعد انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ بند کردیا، سیاحوں کو بالا کوٹ میں روک لیا گیا، دیربالا،کمراٹ، لواری ٹنل، باجوڑ میں بھی برف باری سے راستے بند ہیں۔
ملاکنڈ میں کئی سالوں کے بعد برف باری ہوئی، کچھ مقامات پر درخت سڑکوں پر گر گئے۔
خیبر میں برفباری کے باعث پھنس افراد کو ریسکیو کرنے کا عمل جاری ہے، ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق پھنسے ہوئے افراد کو پائندہ چینہ اسکول اور ہاسٹل منتقل کر دیا گیا، دیگر شاہراہوں پر بھی کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ شانگلہ ٹاپ میں 22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے چار سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیا۔
گلگت بلتستان میں شدید برف باری کا سلسلہ جاری ہے، چلاس اور اپرکوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند کردی گئی جس کے باعث سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔
استور میں شدید برف باری سے نظام زندگی درہم برہم ہوگیا، استور کا ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، راما میڈوز دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں 5 سے 6 فٹ تک برف پڑ چکی ہے، مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے روڈ بلاک ہوگئی۔
ہنزہ اور نگر میں برفباری سے رابطہ سڑک بند ہے، وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو سخت سردی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
ادھر وادی نیلم، سدھنوتی، باغ، ہٹیاں بالا، اٹھ مقام ، اپر نیلم سمیت آزاد کشمیر کے بالائی علاقوں میں گزشتہ رات سے برف باری کا سلسلہ جاری ہے،گاڑیوں اور درختوں،ہر چیز کو برف نے ڈھک دیا۔
مظفرآباد میں کئی سالوں کے بعد برف باری ہوئی، وادی نیلم میں شدید برف باری سے 3 مکانات گر گئے۔
برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے اہم شاہراہیں بند ہوگئیں، بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا، متعدد علاقوں میں پولز گرنے کے واقعات ہوئے، بجلی کی تاریں ٹوٹ گئیں جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔






















Leave a Reply