[ad_1]
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ ملک میں تیل کی قلت نہیں، پڑوسی ملک میں پیٹرول کیلئے قطاریں لگی ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھاکہ مشرقی ہمسایہ ملک میں پیٹرول کیلئے لائنیں لگی ہوئی ہیں اور پیٹرول دستیاب نہیں، خطے کے کئی ممالک میں پیٹرول کی قلت ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت نے ملک میں پیٹرول کی قلت نہیں ہونے دی، وزیراعظم نے بروقت نوٹس لیا اس لیے پیٹرول کی قلت پیدا نہیں ہوئی، جنگ کی وجہ سے سپلائی لائن متاثر ہونے کے باعث پیٹرول کی قیمتیں اوپر گئیں، پیٹرول کے استعمال میں ہم سب کو احتیاط کے ساتھ چلنا ہوگا۔
عطاتارڑ کا کہنا تھاکہ وزیراعظم نے وزرا کی تنخواہیں کاٹیں، گاڑیاں کم کیں لیکن عوام کیلئے پیٹرول کی قلت نہ ہونے دی، چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت تمام قومی قیادت کو گزشتہ روز اکٹھا کیا گیا، قومی قیادت کو بتایا گیا کہ اب حکومت کیلئے مہنگائی کا بوجھ اٹھانا مشکل ہوگیا ہے اور مشاورت کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافہ اور سبسڈی کا نظام واضح کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو سبسڈی ملنے سے عوام کو مزید ریلیف ملے گا، وزیراعظم نے کہا ہے کہ تب تک چین سے نہیں بیٹھوں گا جب تک عوام خود کو محفوظ محسوس نہ کریں، عوام کو ریلیف دینے کیلئے وزیراعظم روز وزرا سے کارکردگی کا پوچھتے ہیں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کیلئے ڈیجیٹل والٹ کا انتظام کیا جارہا ہے۔
عطاتارڑ کا کہنا تھاکہ عوام کے تحفظ کیلئے دن رات کوشش کریں گے، ان مشکل حالات میں کہنا چاہتے ہیں کہ ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، کوشش ہے کہ مشکل حالات میں عوام کیلئے سہولت پیدا کیا جائے، تیل کی قلت ہمارا مسئلہ نہیں، اس کی قیمت مستحکم رکھنا چیلنج تھا، تیل کی قیمتیں نہ بڑھانے سے لوگوں کی عید اچھی گزری۔
وفاقی وزیر مصدق ملک کا کہنا تھاکہ حکومت غریب آدمی اور کاشتکار کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے، بس مالکان کو اس شرط پر سبسڈی دی جا رہی ہے کہ کرائے نہیں بڑھائے جائیں گے اور مال بردار گاڑیوں کو اس لیے سبسڈی دی جا رہی ہے ، اشیائے ضروریہ مہنگی نہ ہوں۔
انہوں نے کہاکہ 129 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں سے کاٹ کر عوام کو دیے گئے، وزیراعظم نے مڈل کلاس کو ریلیف دینے کیلئے پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کی، عوام کو بھی پیٹرول کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply