عوام اس وقت شدید معاشی دباؤ، مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی اضطراب کے دور سے گزر رہے ہیں جسکی ایک بڑی وجہ بناوٹ اور دکھلاوا ہے۔ عام آدمی کیلئےدو وقت کی روٹی کا بندوبست مشکل ہوتا جا رہا ہے، جبکہ شادی جیسے بنیادی سماجی فریضے بھی متوسط اور غریب طبقے کیلئے ایک خوف بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں اگرحکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو وہ محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک قومی پیغام ہوتا ہے۔
آج کل وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات منعقد ہورہی ہیں۔ شادی کی تقریبات میں بارات سے قبل جاتی عمرہ میں مہندی کا فنکشن منعقد کیا گیا، جسکی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ ان تصاویر کے ساتھ ساتھ فنکشن کے مینو کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جن سے واضح طور پر یہ تاثر ملا کہ ون ڈش کی پابندی کی خلاف ورزی کی گئی اور مہمانوں کو مختلف اقسام کے کھانے پیش کیے گئے۔
یہ معاملہ محض ایک شادی کی تقریب کا نہیں بلکہ ایک اصول، ایک مثال اور ایک سوچ کا ہے۔ پنجاب حکومت خود ون ڈش کی پابندی پر زور دیتی ہے، عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں کی جاتی ہیں، شادی ہال سیل کیے جاتے ہیں، جرمانے عائد ہوتے ہیں، مگر جب بات حکمران طبقے کی آتی ہے تو قانون محض ایک کاغذ بن کر رہ جاتا ہے۔
اس تقریب میں شریک افراد کے ملبوسات بھی عوامی بحث کا موضوع بنے۔ سوشل میڈیا پر فیشن سے واقف حلقوں کا کہنا ہے کہ مریم نواز، ان کی صاحبزادیوں اور جنید صفدر نے جو ملبوسات زیب تن کیے ان کی قیمتیں لاکھوں روپے تھیں۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کا لباس اورجیولری مہنگی ہونے کے باعث سوشل میڈیا کا موضوع بن گئی۔ یاد رہے کہ ہم ایک ایسے بناوٹ اور دکھلاوے والے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں دوسروں کو مرعوب کرنے کیلئے شادیوں اور ملبوسات پر بےپناہ خرچ کیا جاتا ہے۔
یقیناً ہر فرد کو اپنی خوشی منانے کا حق حاصل ہے، اور شادی ایک ذاتی معاملہ بھی ہے، لیکن جب کوئی شخصیت عوام کی منتخب نمائندہ ہو، صوبے کی وزیراعلیٰ ہو اور خود سادگی، کفایت شعاری اور عوامی ہمدردی کی بات کرتی ہو تو اسکی ذاتی تقریبات بھی عوامی پیغام بن جاتی ہیں۔
پاکستانی معاشرے میں شادیوں پر غیر معمولی سماجی دباؤ پایا جاتا ہے۔ لوگ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، زیور بیچتے ہیں، زمینیں رہن رکھ دیتے ہیں، صرف اس لیے کہ’’ لوگ کیا کہیں گے‘‘۔ لاکھوں روپے کے جوڑے صرف ایک دن کیلئے بنوائے جاتے ہیں، سینکڑوں افراد کو دعوت دی جاتی ہے، اور کئی خاندان برسوں تک ان اخراجات کا بوجھ اٹھاتے رہتے ہیں۔
ایسے میں اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے تو وہ معاشرے کیلئے ایک طاقتور مثال بن سکتی ہے۔ اگر وزیراعلیٰ پنجاب اپنے بیٹے کی شادی سادہ انداز میں کرتیں، ون ڈش کی پابندی پر خود عمل کرتیں اور غیر ضروری نمود و نمائش سے گریز کرتیں تو یہ پورے ملک کیلئےایک مثبت پیغام ہوتا۔
یہ کہا جاتا کہ دیکھیں، اقتدار میں ہونے کے باوجود مریم نواز نے سادگی اپنائی۔ پھر عام آدمی کو بھی حوصلہ ملتا کہ وہ معاشرتی دباؤ کو نظرانداز کر کے سادہ شادی کر سکتا ۔ والدین اپنی بچیوں کی شادی قرض کے بغیر کرنے کا حوصلہ پاتے۔ نوجوان نسل یہ سمجھتی کہ خوشی کا تعلق اخراجات سے نہیں بلکہ نیت اور رشتے کی مضبوطی سے ہے۔بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ جو تصاویر سامنے آئیں، انہوں نے سادگی کے بیانیے کو کمزور کر دیا۔ یہ وہی سادگی ہے جسکا درس عوام کو دیا جاتا ہے، مگر جس پر عمل حکمران طبقہ خود کرنے سے گریز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مریم نواز کے پاس بطور حکمران یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ محض سیاسی نہیں بلکہ سماجی قیادت کا کردار ادا کرتیں۔ وہ ایسی مثال قائم کر سکتی تھیں جس کا حوالہ برسوں دیا جاتا۔ مگر یہ موقع ضائع ہو گیا۔
قوم کو آج تقاریر سے زیادہ مثالوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو نعرے نہیں، عملی رویے درکار ہیں۔ اگر حکمران خود سادگی اختیار کریں گے تو معاشرہ بھی اسی سمت بڑھے گا، ورنہ مہنگے جوڑوں، قیمتی زیورات اور شاہانہ تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا چلا جائے گا، اور اس کا بوجھ ہمیشہ کی طرح عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply