جسمانی وزن میں اضافہ کسی بھی فرد کو اچھا نہیں لگتا اور اس میں کمی لانے کے لیے وہ اکثر کم مقدار میں غذا کا استعمال کرنے لگتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ ڈائیٹنگ کرنے لگتے ہیں۔
مگر غذائی مقدار میں کمی لائے بغیر بھی جسمانی وزن میں کمی لانا یا موٹاپے سے نجات پانا ممکن ہے، بس غذا کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
برسٹل یونیوسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کی جگہ صحت کے لیے مفید خوراک کے استعمال سے جسمانی وزن میں کمی لانا ممکن ہے اور ڈائیٹنگ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو افراد صرف الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، ان کا جسمانی وزن دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، چاہے دونوں گروپس یکساں مقدار میں غذا کو جزوبدن بناتے ہوں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ جو افراد اکثر الٹرا پراسیس غذائیں استعمال کرتے ہیں، وہ دیگر کے مقابلے میں اوسطاً اضافی 330 کیلوریز جسم کا حصہ بناتے ہیں۔
واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔
الٹرا پراسیس غذاؤں میں ڈبل روٹی، فاسٹ فوڈز، مٹھائیاں، ٹافیاں، کیک، نمکین اشیا، بریک فاسٹ سیریلز، چکن اور فش نگٹس، انسٹنٹ نوڈلز، میٹھے مشروبات اور سوڈا وغیرہ شامل ہیں۔
ان غذاؤں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے۔
اس تحقیق میں امریکا کے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی ایک تحقیق کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا جس میں لوگوں کی غذائی عادات اور جسمانی وزن میں درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا تھا۔
اس نئی تحقیق میں یہ دیکھا گیا کہ جو افراد صرف صحت کے لیے مفید غذا کا زیادہ مقدار میں استعمال کرتے ہیں تو اس سے جسمانی وزن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اس طرح کی غذائیں جیسے سبزیوں، پھلوں، گریوں اور سالم اناج وغیرہ کو کھانے کے عادی افراد زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔
یہ افراد اگر معمول سے زیادہ کھانا کھالیتے ہیں تو بھی الٹرا پراسیس غذائیں کھانے کے عادی افراد کے مقابلے میں کم کیلوریز کو جزوبدن بناتے ہیں۔
محققین کے مطابق درحقیقت صحت کے لیے مفید غذائیں غذائی ذہانت جیسا کام کرتی ہیں اور ایسے افراد کا جسمانی وزن تیزی سے کم ہوتا ہے یا مستحکم رہتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کھانے کے شوقین افراد متعدد ضروری وٹامنز اور منرلز سے محروم رہتے ہیں اور جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا غذائی رویہ جسمانی وزن کے حوالے سے اہم ہوتا ہے، اگر آپ سبزیوں اور پھلوں کو ترجیح دیتے ہیں تو قدرتی طور پر موٹاپے کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج امریکن جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل دسمبر 2024 میں جرنل نیوٹریشنز میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کے زیادہ استعمال سے جسمانی وزن میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جبکہ جسمانی چربی بھی بڑھتی ہے یا توند نکل آتی ہے۔
حقیق میں موٹاپے کے شکار 175 افراد کو شامل کیا گیا تھا اور ان سے غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
ان افراد سے معلوم کیا گیا کہ وہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا کتنا استعمال کرتے ہیں اور پھر اس کا موازنہ بحیرہ روم کے خطے کے رہائشیوں کی غذا Mediterranean ڈائٹ کے اثرات سے کیا گیا۔
اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک کے شہریوں کی یہ عام غذا پھلوں، سبزیوں، اجناس، گریوں، مچھلی، زیتون کے تیل وغیرہ پر مشتمل ہوتی ہے (سرخ گوشت کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے)۔
تحقیق میں دریافت ہوا کہ الٹرا پراسیس غذاؤں کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد کا جسمانی وزن بھی زیادہ ہوتا ہے جبکہ Mediterranean ڈائٹ سے جسمانی وزن میں کمی آتی ہے۔
درحقیقت لوگ جتنی زیادہ مقدار میں الٹرا پراسیس غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، صحت کے لیے مفید غذاؤں کا استعمال اتنا گھٹ جاتا ہے۔
محققین نے دریافت کیا کہ کچھ الٹرا پراسیس غذاؤں جیسے میٹھے مشروبات یا سوڈا سے جسمانی وزن اور چربی میں دیگر کے مقابلے میں زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ تحقیق میں بہت کم افراد کو شامل کیا گیا مگر نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاؤں بالخصوص میٹھے مشروبات کا استعمال کم از کم کرنا چاہیے تاکہ جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو غذا جتنی زیادہ پراسیس کی جائے گی، اس کے استعمال سے جسم میں انسولین کے اخراج اور چربی کی مقدار میں اتنا اضافہ ہوگا۔
محققین کے مطابق پراسیس غذائیں بہت جلد ہضم ہو جاتی ہیں اور لوگوں کو جلدی بھوک لگنے لگتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سوڈا اور کیک جیسی غذاؤں کا استعمال سب سے پہلے ترک کرنا چاہیے۔

























Leave a Reply