ریگولیٹری اداروں کے تنخواہوں میں ازخود اضافے کے اختیار کے قانون میں ترمیم کی سفارش


ریگولیٹری اداروں کے تنخواہوں میں ازخود  اضافے کے اختیار کے قانون میں ترمیم کی سفارش

سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ نے ایس ای سی پی، اسٹیٹ بنک آف پاکستان اور پی ایم ڈی سی میں تنخواہوں میں از خود اضافے کے اختیارات پر تحفظات کاا ظہار کیا/ فائل فوٹو

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے تین ریگولیٹری اداروں ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پی ایم ڈی سی میں تنخواہوں میں از خود اضافے کے اختیارات پر تحفظات کا اظہار کرتےہوئے قانون میں ترامیم کرنے کی سفارش کر دی۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سینٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا جس میں قائمہ کمیٹی اراکین نے کہا کہ مذکورہ تین ریگولیٹری اداروں میں تنخواہوں میں اضافے کا اختیار نہیں ہوناچاہیے اور اس کی حکومت سے منظوری لی جانی چاہیے جب کہ کمیٹی نے دیگر سرکاری اداروں کی تنخواہوں کی تفصیلات بھی وزارت خزانہ سے طلب کر لیں۔ 

سینیٹ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ 18 ریگولیٹری اداروں کے معاملے میں کوئی استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے، سرکاری اداروں (SOEs) کو بھی اپنی تنخواہیں بڑھانے کے وہی اختیارات حاصل ہیں۔

قائمہ کمیٹی کو ایس ای سی پی کے چیئرمین عاکف سعید نے بتایا کہ ایس ای سی پی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ تنخواہ بڑھا سکے۔

سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ اختیار کا نہیں قانون کے غلط استعمال کا معاملہ ہے ، سپریم کورٹ کے جج بھی اپنی تنخواہ خود نہیں بڑھا سکتے، یہ اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے۔

سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کئی ریگولیٹر ہیں انہیں بے لگام نہیں چھوڑا جا سکتا، اس سے پہلے نیپرا نے بھی کسی کی منظوری کے بغیر ہی اپنے عہدیداران کی تنخواہوں میں لاکھوں روپے کا اضافہ کیا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ تمام ریگولیٹری اداروں کیلئے تنخواہ میں اضافے کیلئے قانون ہونا چاہیے، سینیٹر انوشہ رحمان نےکہا کہ ایس ای سی پی عملے کو 37 کروڑ روپے بانٹے گئے۔

علاوہ ازیں چیئرمین سی سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو نے کمیٹی کوبریفنگ میں بتایا کہ کمیشن نے گزشتہ سال عدالتوں میں فعال پیروی کے نتیجے میں زیر التوا مقدمات کی تعداد 567 سے کم کر کے 280 کر دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسی عرصے میں عدالتوں کے فیصلوں کے ذریعے 41 کروڑ روپے کے جرمانے ریکور کیے گئے جب کہ کارٹلز کے خلاف 14 فیصلے سنائے گئے جن کے تحت ایک ارب روپے سے زائد کے جرمانے عائد ہوئے۔

کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ کارٹلز اور اجارہ داری کے غلط استعمال کی 20 جبکہ گمراہ کن مارکیٹنگ کی 18 انکوائریاں مکمل کی گئیں اور مارکیٹ انٹیلی جنس یونٹ نے 193 ممکنہ کیسز کی نشاندہی کی جب کہ مرجر اینڈ ایکوزیشن کی 117 منظوریوں سے 29 ارب روپے کی غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آئی۔

کمیٹی کے اراکین نے کمپٹیشن کمیشن کے سیمنٹ اور شوگر کے سیکٹر میں کارٹلائزیشن کے خلاف سخت کاروائی کرنے کی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ ایس ای سی پی کے چیئرمین اور دیگر افسران کی تنخواہوں میں 40 فیصد از اضافے پر قائمہ کمیٹی نے نوٹس لیا تھا اور ایس ای سی پی حکام کو طلب کر وضاحت طلب کی اور وزارت قانون کو ریگولیٹری اداروں کی تنخواہ اور مراعات کےلیے قانون میں ترمیم کی ہدایت کر دی۔ 



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *