لاطینی امریکا سے ایران تک زور زبردستی سے ’رجیم چینج‘کی پوری ایک تاریخ ہے ’سامراج‘ کی، لہٰذا پچھلے کئی برسوں سے جو کچھ ایران کے خلاف ہورہا ہے اس پر حیرانی نہیں البتہ وہاں کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی اسرائیلی حملے میں شہادت نے ایک بار پھر ایرانی قوم کو متحد کردیا ہے اور شاید صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ’رجیم چینج‘ کا خواب ’’شرمندہ تعبیر‘‘ نہ ہو پائے۔
ایک گیا تو دوسرا تیار، وہ گیا تو تیسرا، البتہ اس لڑائی نے بہت سے ایسے ممالک کو بے نقاب کردیا جن کی سرزمین ’امریکی اڈوں‘ کیلئے ناجانے کب سے استعمال ہورہی تھی، آخر کوئی تو وجہ ہوگی کہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپریل 1977میں امریکا کو ’سفید ہاتھی‘ سے تشبیہ دی اور کہا ، ’ یہ سفید ہاتھی میری جان کے درپے ہے کیونکہ میں نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا ہے۔‘ آنیوالے سالوں میں اس ساری قیادت کو راستے سے ہٹا دیا گیا جس نے 1974میں ’اسلامک بلاک‘ کا تصور دیا تھا۔
اہم بات یہ نہیں کہ آپ نے جنگ جیتی یا ہاری بلکہ یہ کہ آپ نے یہ جنگ کیسے اور کتنی بہادری سے لڑی، آج کا ایران شاہ کے ایران سے بہت مختلف ہے اور شاید اب ’رضا پہلوی‘ جیسے لوگوں کا ایران میں واپسی کا تصور’ ’دیوانے کے خواب‘‘ سے کم نہیں، اس میں کوئی شک نہیں کو 1979 کے ایرانی انقلاب سے آج تک ایران اندرونی و معاشی طور پر بہت مستحکم نہیں رہا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہاں آج سے نہیں امام خمینی کے زمانے سے ہی سیاسی کشمکش رہی ہے چاہے وہ کمیونسٹ تودہ پارٹی ہو یا مجاہدین خلق۔
مگر آج جب ایران پر سامراج نے حملہ کیا تو اسی تودہ پارٹی نے اسے بیرونی جارحیت کہہ کر مسترد کر دیا اور ’رجیم چینج‘ کے امریکی اور اسرائیلی پلان کے خلاف کھڑے ہو گئے، ایران میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایرانی پارلیمنٹ تک دھماکوں سے اڑا دی گئی تھی مگر قوم پھر بھی متحد رہی، تہران میں امریکی ایمبسی پر قبضے کے وقت جو ’خفیہ دستاویزات‘ ملیں ان میں کئی ’پاکستانی پیپرز‘ بھی شامل تھے جن کو پڑھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس خطے میں امریکی عزائم کیا رہے ہیں ،پاکستان سے افغانستان تک، پاکستان میں 1977کے ’رجیم چینج‘ کے پیچھے بھی یہی ہاتھ نظر آتا ہے اور پھر بھٹو کی پھانسی میں بھی۔
ایران ’خمینی سے خامنہ ای تک‘ مزاحمت کی علامت نظر آتا ہے، البتہ وہاں ’رجیم چینج‘ کا اپنا ایک طریقہ کار رہا ہے جس کی بڑی مثال ہر پانچ سال بعد ان کے اپنے نظام کے تحت صدر اور شوریٰ کا انتخاب ہے جو بہرکیف ایک مسلمہ پارلیمانی نظام سے مختلف ہے، امام خمینی کی وفات کے بعد 1989میں آیت اللہ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر بنایا گیا، یہ عہدہ ان کے پاس شہادت تک رہا۔
یہ سب وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی وقت میں ا نقلاب ایران کی تحریک سے وابستہ رہے ہیں، سادہ زندگی تو ایران کے مزاج کا حصہ رہی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ جب خمینی جلاوطنی ختم کر کے واپس آئے تو شاہ کے محل کے بجائے وہ زندگی اپنائی جس نے ایک عام ایرانی کو متاثر کیا، آنے والے ایرانی حکمرانوں کا طرز حکمرانی بھی ایسا ہی رہا ،کاش ہماری اشرافیہ اس کا صرف دو فیصد ہی اپنا لیتی۔
آیت اللہ خامنہ ای کے عہد میں ایران کو اپنا نیوکلیئر پروگرام شروع کرنے کی پاداش میں بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا،تمام تر یقین دہانیوں اور بین الاقوامی اصولوں پر کاربند رہنے کے باوجود امریکا کے زیر اثر اقوام متحدہ کی بدترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا رہا اورچونکہ سامراج کسی بھی ایسے رجیم کو برداشت نہیں کرتا جو دنیا میں مزاحمت کی علامت بن جائے لہٰذا خامنہ ای اور ایرانی قیادت پر دبائو بڑھتا گیا اور آخر وہی ہوا جسکی تلاش میں امریکی اور اسرائیلی شروع سے تھے، بس دوسرے ملکوں اور ایرن میں فرق یہ ہے کہ یہاں قیادت کی شہادت ایک نئی قیادت کو جنم دے دیتی ہے۔
حالیہ برسوں میں یا یوں کہوں تو غلط نہیں ہوگا گزشتہ تین دہائیوں سے ہم نے سامراج کے ’رجیم چینج‘ کے تصور کی عملی شکل پاکستان سے عراق، شام سے لیبیا اور مصر تک میں دیکھی ہے، کہیں لیڈر مارے گئے تو کہیں حکومت ختم کر دی گئی، بھٹو، شاہ فیصل، یاسر عرفات، قدافی اور اب خامنہ ای ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
عراق میں جو کچھ صدام حسین کے ساتھ ہوا اس کی تمام تر پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود وہ جھوٹ ، فریب کے سوا کچھ نہیں، دنیا میں پہلی بار کسی بھی شخص کی پھانسی کو براہ راست دکھایا گیا ، دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش رہیں۔
دنیا 9/11کے بعد نہیں 1979کے بعد تبدیل ہوئی، ایک بار میں نے دورہ امریکا کے دوران ایک پریس بریفنگ میں امریکی ترجمان سے سوال کیا کہ ’’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ 9/11 کے بعد امریکہ نے دنیا بھر میں کئی ٹریلین ڈالرز خرچ کیے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کیلئے، وہ ختم ہوئی کم ہوئی یا بڑھی ہے؟۔ وہ میرے سوال پر کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا ’’جی آپ درست کہہ رہے ہیں وہ بڑھی ہے تاہم ہم کوشش کر رہے ہیں اسےختم کرنے کی‘‘۔
یہ بات ہے 2010ءکی اور میں نے یہ جملہ کہہ کر بات ختم کی، آپ جائزہ لیں کہ آخر وہ بڑھی کیوں ہے، امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پاکستان کے دورے پر آئیں تو اسلام آباد میں چند صحافیوں اور اینکرز کے ساتھ گفتگو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری تمام تر امداد اور کوششوں کے باوجود یہاں مجموعی طور پر لوگ امریکا مخالف جذبات رکھتے ہیں جس پر میں نے اور ہمارے کچھ دوستوں نے کہا’’اس کا جائزہ آپ کو خود لینا چاہیے صرف سرکاری بریفنگ پر نہیں جانا چاہئے۔‘
آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے کئی افراد اور اہم کمانڈرز کی شہادت خود ایرانی قیادت کیلئے ان گنت سوالات چھوڑ گئی ہے، مگر ایک بات واضح ہے کہ امریکا کسی بھی حوالے سے قابل اعتماد نہیں ہے یہ جنگ بھی ایسے وقت شروع ہوئی جب مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی تھی، اب اگر مذاکرت کامیاب ہو جاتے تو ’اسرائیلی پلان‘ بے نقاب ہو جاتا۔ تو ا گر ایران کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے تو حماس کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتا۔
کیا اب ’بورڈ آف پیس‘ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے،غزہ میں ہزاروں فلسطینی، عورتوں اور بچوں سمیت شہید کر دیئے گئے، سامراج رجیم چینج کے تصور نے دنیا کو آج نہیں برسوں سے غیر محفوظ بنا دیا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ آج وہ سامراج اور ان کے اتحادی بے نقاب ہو رہے ہیں ٹرمپ کی قیادت میں۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply