[ad_1]
وٹامن ڈی ایک ایسا غذائی جز ہے جو ہماری صحت اور مدافعتی نظام کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔
وٹامن ڈی سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں، ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے جبکہ اچھی نیند کا حصول آسان ہو جاتا ہے۔
مگر دنیا بھر میں کروڑوں افراد وٹامن ڈی کی کمی کے شکار ہوتے ہیں۔
اب دریافت ہوا ہے کہ درمیانی عمر میں جسم میں وٹامن ڈی کی کمی سے مستقبل میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے عارضے ڈیمینشیا سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
آئرلینڈ کی گالوے یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی سے دماغ میں ٹاؤ نامی پروٹین کی سطح بڑھ سکتی ہے اور اس پروٹین کو ڈیمینشیا سے منسلک کیا جاتا ہے۔
اس تحقیق میں 739 افراد کو شامل کیا گیا جن کی اوسط عمر آغاز میں 39 سال تھی اور وہ ڈیمینشیا سے محفوظ تھے۔
تحقیق کے آغاز میں ان افراد کے خون کے نمونوں میں وٹامن ڈی کی سطح کا جائزہ لیا گیا۔
اس کے بعد 16 سال تک ان افراد کی صحت کا جائزہ لیا گیا اور پھر دماغی اسکین کرکے ٹاؤ اور ایمیلوئیڈ پروٹینز کی سطح کی جانچ پڑتال کی گئی۔
ان دونوں کو الزائمر امراض سے منسلک کیا جاتا ہے۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ آغاز میں 34 فیصد افراد کے جسم میں وٹامن ڈی کی سطح معمول سے کم تھی جبکہ صرف 5 فیصد افراد وٹامن ڈی سپلیمنٹس کا استعمال کر رہے تھے۔
بعد ازاں تمام تر عناصر جیسے عمر، جنس اور ڈپریشن کی علامات وغیرہ کو مدنظر رکھنے کے بعد دریافت ہوا کہ درمیانی عمر میں جسم میں وٹامن ڈی کی بلند سطح سے بعد کی زندگی میں دماغ میں ٹاؤ پروٹین کی سطح میں کمی آتی ہے۔
البتہ وٹامن ڈی کی سطح سے ایمیلوئیڈ پروٹین کی سطح پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ درمیانی عمر میں وٹامن ڈی کی سطح کا خیال رکھنے سے بعد کی زندگی میں ڈیمینشیا جیسے لاعلاج مرض سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کسی حد تک محدود ہیں کیونکہ 16 سال کے دوران بس ایک بار وٹامن ڈی کی سطح کا جائزہ لیا گیا جبکہ اس وٹامن اور ڈیمینشیا کے خطرے کے درمیان براہ راست تعلق کی وجہ ثابت نہیں کی جاسکی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ دماغی صحت کے لیے وٹامن ڈی کے کردار کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جاسکے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل نیورولوجی اوپن ایسز میں شائع ہوئے۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply