ڈھاکا: بنگلادیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان نے بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ان کے گھر پر ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد جاری ہونے والے بیان میں ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ ’میں بنگلادیش کے مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر بی این پی کے چیئرمین طارق رحمان کو پیشگی مبارکباد دیتا ہوں، ان کی آج میرے رہائشی دفتر آمد ہماری قومی سیاست کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میرا خواب ایک ایسے بنگلادیش کا ہے جو فسطائیت سے پاک، خودمختار اور عدل و انصاف کی بنیاد پر قائم ہو‘۔
جماعت کے امیر نے کہا کہ طارق رحمان نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ انتخابات کے بعد ہونے والے تشدد اور اپوزیشن کارکنوں اور اقلیتی برادریوں پر حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں اس یقین دہانی کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ ہماری توقع ہے کہ کوئی بھی شہری خوف یا عدم تحفظ کا شکار نہ ہو‘۔
شفیق الرحمٰن نے مزید کہا کہ جماعتِ اسلامی قومی مفاد کے معاملات میں منتخب حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی، تاہم نظریاتی اپوزیشن کے طور پر اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
خیال رہے کہ الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 209 نشستیں لےکر واضح برتری حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ طلبہ کی جماعت این سی پی نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔

























Leave a Reply