بھارتی مصنف اور شاعر جاوید اختر نے بنگلادیش کے پارلیمانی انتخابات میں بنگلادیش جماعت اسلامی کی شکست پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں جاوید اختر نے لکھا کہ بنگلادیش کی جماعت اسلامی وہاں کی دائیں بازو کی سیاست کا سرچشمہ سمجھی جاتی ہے اور الزام لگایا کہ جماعت اسلامی ملک میں ہندو اقلیت پر ہونے والی زیادتیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
جاوید اختر نے کہا کہ بنگلادیش کے انتخابات میں جماعت اسلامی بری طرح شکست کھا گئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ بنگلادیش کی اکثریتی آبادی جماعت اسلامی کے اقلیتوں کے خلاف فرقہ وارانہ تعصب کو قبول نہیں کرتی جوکہ ایک اچھی خبر ہے۔
خیال رہے کہ بنگلا دیش کے الیکشن کمیشن میں ملک میں گزشتہ روز ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق طارق رحمان کی بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو گئی۔
الیکشن کمیشن بنگلادیش کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں بی این پی نے 209 نشستیں لےکر واضح برتری حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی 68 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ طلبہ کی جماعت این سی پی نے 6 نشستیں حاصل کی ہیں۔


























Leave a Reply