امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر حملوں سے بھی ایران کی موجودہ حکومت کو ہٹانا ممکن نہیں ہے۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک خفیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہےکہ بڑے پیمانے پر فوجی حملہ بھی ایران کی موجودہ حکومتی اور فوجی قیادت کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
اخبار کے مطابق یہ رپورٹ نیشنل انٹیلیجنس کونسل کے سینئر تجزیہ کاروں نے مرتب کی ہے، جو امریکا کی 18 انٹیلیجنس ایجنسیوں کی مشترکہ معلومات کی بنیاد پر خفیہ رپورٹیں تیار کرتے ہیں۔
یہ رپورٹ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حالیہ حملے شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل مکمل کی گئی تھی۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف ایک طویل فوجی مہم کی دھمکی دی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہےکہ ابھی تو شروعات ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کیا گیا تو ایران کی مذہبی اور فوجی قیادت پہلے سے طے شدہ پروٹوکول کے مطابق ردعمل دےگی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی اپوزیشن کا ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔
رپورٹ میں امریکی زمینی افواج کے ایران میں داخلے یا کرد علاقوں میں بغاوت شروع کرنے جیسے متبادل راستے زیر غور نہیں آئے۔
اخبار کے مطابق خفیہ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ ‘بڑے پیمانے پر حملوں’ سے مراد موجودہ فوجی کارروائی ہے یا نہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ایران میں اب تک کوئی بڑے پیمانے پر عوامی بغاوت یا حکومت کے اندر ایسا فرق نہیں آیا جس سے نیا نظام قائم ہو۔
ماہرین کے مطابق ایران پر اس کی مذہبی اور فوجی قیادت کا ابھی بھی مکمل کنٹرول ہے۔
واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کی سینئر محقق کے مطابق ٹرمپ کے آگے سر جھکانا ایران کی قیادت کے نظریات کے خلاف ہوگا، یہ لوگ امریکی سامراج کے خلاف مزاحمت کو اپنا اصول سمجھتے ہیں۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سوزان مالونی کے مطابق ایران کے اندر کوئی ایسی طاقت موجود نہیں جو حکومت کی باقی ماندہ طاقت کا مقابلہ کر سکے، ملک کے اندر ان کا مکمل کنٹرول ہے۔


























Leave a Reply