خون کے دباؤ یا بلڈ پریشر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریانوں سے کتنی مقدار میں خون گزر رہا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر یا فشار خون کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب شریانوں سے گزرنے والے خون کا دباؤ مسلسل بہت زیادہ ہو۔
ہائی بلڈ پریشر کو خاموش قاتل مرض قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے شکار افراد کو اکثر اس کا علم ہی نہیں ہوتا، جبکہ امراض قلب، ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ بہت عام ہے اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس کے شکار ہیں، مگر اچھی خبر یہ ہے کہ ورزش کرنے کی عادت سے اس کو قابو میں رکھنا ممکن ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اس مقصد کے لیے کتنی ورزش کرنا ضروری ہے؟ اس کا جواب کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دیا گیا۔
کچھ عرصے پرانی اس تحقیق میں 5 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ نوجوانی اور 20 سے 25 سال کی عمر میں بیشتر افراد جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ روزمرہ کے معمولات میں تبدیلیاں آتی ہیں۔
یہ بات تو متعدد تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوچکی ہے کہ ورزش کرنے سے بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے مگر اس تحقیق کے نتائج میں عندیہ دیا گیا کہ جوانی میں جسمانی سرگرمیوں کی سطح مستحکم رکھنا بلڈ پریشر کو خود سے دور رکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔
تحقیق میں شامل افراد کی صحت کا جائزہ 3 دہائیوں تک لیا گیا اور ان کی جسمانی صحت کا تجزیہ کیا گیا جبکہ ورزش اور تمباکو نوشی جیسی عادات کی تفصیلات سوالناموں کے ذریعے حال کی گئیں۔
ہر بار طبی تجزیے کے دوران بلڈ پریشر کو بھی 3 بار جانچا جاتا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 18 سے 40 سال کی عمر کے افراد میں جسمانی سرگرمیوں کی سطح میں بتدریج کمی آئی جبکہ بلڈ پریشر کی سطح بڑھنے لگی۔
محققین کے مطابق جوانی میں ورزش کو عادت بنانا درماینی عمر میں ہائی بلڈ پریشر سے بچنے کے لیے بہت اہم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جوانی میں ہر ہفتے 5 گھنٹے تک معتدل شدت کی ورزش کرنے والے افراد میں درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریر سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک گھٹ جاتا ہے۔
اگر یہ افراد جسمانی سرگرمیوں کی عادت کو 60 سال کی عمر تک برقرار رھیں تو یہ خطرہ مزید کم ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج امریکن جرنل آف پرینیٹیو میڈیسن میں شائع ہوئے۔
اس حوالے سے امریکا امریکا کے معروف طبی ادارے مایو کلینک کی جانب سے جاری سفارشات کے مطابق ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ کی معتدل ایروبک سرگرمیوں یا 75 منٹ کی سخت ورزشیں یا دونوں کے امتزاج پر مبنی جسمانی سرگرمیوں کو عادت بنانا چاہیے۔
مایو کلینک کے مطابق ایک ہفتے میں زیادہ تر دنوں میں کم از کم 30 منٹ کی ایروبک جسمانی سرگرمیوں کو ہدف بنائیں اور اگر آپ ورزش کرنے کے عادی نہیں تو بتدریج جسمانی سرگرمیوں کے دورانیے کو بڑھائیں۔
ہر وہ جسمانی سرگرمی جس سے دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہو، اسے ایروبک سرگرمی تصور کیا جاتا ہے۔
رقص، سائیکل چلانا، سیڑھیاں چڑھنا، باغبانی، جاگنگ، سوئمنگ اور چہل قدمی اہم ایروبک سرگرمیاں ہیں۔
یہ واضح رہے کہ ورزش کو معمول بنانے کے ایک سے 3 ماہ بعد بلڈ پریشر پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یہ اثرات اس وقت تک ہی برقرار رہتے ہیں جب تک آپ ورزش کرنا جاری رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ورزش کو معمول بنانے سے صحت مند وزن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لیے جسمانی وزن کو مستحکم رکھنا ضروری ہے۔
اگر آپ موٹاپے کے شکار ہیں تو جسمانی وزن میں 2.3 کلوگرام کمی سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔


























Leave a Reply