کوئٹہ: وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہناہے کہ بھارت نے بلوچستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کی، ہم ایک ایک چیز کے پیچھے جائیں گے، دہشت گردوں اور ان کے ماسٹرز کو نہیں چھوڑیں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان کے 12 مقامات پر فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے بزدلانہ حملوں اور پھر ان کے خلاف سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپریشن کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے منصوبہ بندی کے تحت حملے کیے، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، جوبھی دہشت گرد آیا وہ بچ کرواپس نہیں گیا،دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کرمارا گیا۔
بھارت نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی، ہم ایک ایک چیز کے پیچھے جائیں گے: وزیر داخلہ
محسن نقوی نے کہا کہ تمام سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، فورسز نے دہشت گردوں کا بہادری سے مقابلہ کیا اور ان کو ہلاک کیا، دنیا کو پتا چلنا چاہیے کہ ان حملوں کے پیچھے بھارت ہے، بھارت نے ان حملوں کی منصوبہ بندی کی، ہم ایک ایک چیز کے پیچھے جائیں گے، دہشت گردوں ان کے ماسٹررز کو نہیں چھوڑیں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جہاں سے بیٹھ کریہ دہشت گرد آپریٹ کرتے ہیں ہمارے پاس تمام چیزیں موجود ہیں ہم ان کو دنیا میں بےنقاب کریں گے کہ یہ کس طرح لوگوں سے ملتے ہیں اور دہشت گردوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کی مالی مدد کے ساتھ منصوبہ بندی اور حکمت عملی میں بھی سپورٹ کررہاہے، بھارت کو اسی طرح شکست ہوگی جس طرح پہلے ہوئی ہے، ہم سب مل کردہشت گردوں کا مقابلہ کریں گے۔
کاش ہمارے پاس چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تواس ملک کی دہشت گردی دنوں میں ختم ہوجاتی: وزیر داخلہ
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارے وزیراعلیٰ بلوچستان بہادر شخص ہیں وہ فرنٹ پر آکر لیڈ کررہے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان اپنی فورس کےساتھ کھڑے ہیں، کاش ہمارے پاس چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تواس ملک کی دہشت گردی دنوں میں ختم ہوجاتی۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بتایا کہ دہشت گردوں نے گوادر میں لیبرکالونی میں گھس کربلوچ فیملی کی خواتین اور بچوں کو بےدردی سے شہید کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرداخلہ کا مشکور ہوں تمام مصروفیات چھوڑ کو کوئٹہ پہنچے، سیکیورٹی فورسزنے بھرپورجواب دیا، تمام غازیوں اور شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس طرح کے 10 حملے بھی ہمارے عزم کو کمزور نہیں کرسکتے، شہدا کے خاندانوں کے حوصلے بلند ہیں۔


























Leave a Reply