[ad_1]
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی فوج نے ایران کی ساحلی جنوبی پارس فیلڈ میں گیس تنصیبات پر حملہ کردیا۔
اسرائیلی حملے کے بعد 25 ہزار ملین مکعب فٹ سے زائد ایرانی گیس کی پیداوار معطل ہوگئی، دنیا کی سب سے بڑی ساؤتھ پارس فیلڈ ایران اور قطر کی مشترکہ ملکیت ہے ۔
ایران نے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور ریفائنری پر حملے کا فی الفور جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے خطے کی ان تمام تیل تنصیبات کو اپنا ہدف قرار دے دیا جو امریکی کمپنیوں کی ملکیت ہیں یا ان کے زیرِ انتظام چلائی جارہی ہیں۔
اسی سلسلے میں ایران نے سعودی عرب کی سامرف ریفائنری اور جُبیل پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، متحدہ عرب امارات کی الحصن گیس فیلڈ اور قطر کی راس لفان ریفائنری اور مسيعيد پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو بھی نشانے پر رکھ لیا۔
قطر کے راس الفان صنعتی شہر پر حملے کے بعد تنصیب میں آگ بھڑک اٹھی، شدید نقصان پہنچا، راس الفان پورٹ پر دنیا کی سب سے بڑی ایل این جی ایکسپورٹ تنصیب قائم ہے، حملے کے بعد ایل این جی سپلائی متاثرہونے کاخدشہ ہے۔
ایران کےصدرپزشکیان کاکہناہےکہ ایرانی توانائی تنصیبات پر حملے صرف پیچیدگیاں پیدا کرنے کا سبب بنیں گے، دنیاکے لیے صورتحال قابو سے باہر ہو جائےگی ۔
ادھر قطر نے ایران کی توانائی تنصیبات پر اسرائیلی حملے کو خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا ، قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی ساؤتھ پارس فیلڈ سے منسلک توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جو قطر کے نارتھ فیلڈ کی توسیع ہے۔
اپنے بیان میں قطری وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا عالمی توانائی کے تحفظ کے لیے خطرہ ہے۔
متحدہ عرب امارات نے بھی ایران اور قطر کی مشترکہ پارس گیس فیلڈ پر حملے پر تشویش کا اظہار کیا، جاری بیان میں کہا ایران میں واقع پارس جنوبی فیلڈ قطر کے شمالی میدان سے منسلک ہے اسرائیل کا اس فیلڈ کو نشانے بنانا عالمی توانائی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے مکمل گریز کرنے پر زور دیا۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply