Skip to content
  • Thursday, 23 April 2026
  • 7:17 AM
Dailymithan news logo
  • کھیل
  • انٹرٹینمنٹ
  • کاروبار
  • دنیا
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • Home
  • ایرانی قوم متحد ہے، رجیم چینج کی امریکی و اسرائیلی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی: ایرانی قونصل جنرل

حالیہ پوسٹس

  • گزشتہ 24 گھنٹوں میں کویت پر ایران سے 4 میزائل اور 42 ڈرون حملے
  • ایران کا آیت اللّٰہ خامنہ ای کے چہلم پر ملک بھر میں تعزیتی تقاریب کا اعلان
  • لبنانی وزیراعظم کی لبنان اور اس کے عوام پر حملوں کے فوری خاتمے کیلئے پاکستان سے تعاون کی درخواست
  • ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے دلچسپ اور تیز تر سفارتی کوششوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • نیتن یاہو نے ٹرمپ کو کال کرکے کہا جنگ بندی نہ کریں، اسرائیلی عہدیدار
Headline تازہ ترین

ایرانی قوم متحد ہے، رجیم چینج کی امریکی و اسرائیلی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی: ایرانی قونصل جنرل

DAILY MITHAN Mar 19, 2026 0

[ad_1]

ایرانی قوم متحد ہے، رجیم چینج کی امریکی و اسرائیلی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی: ایرانی قونصل جنرل

اس جنگ میں ایران ہی فتح یاب ہوگا: اکبر عیسیٰ زادے

ایران پرمسلط کردہ جنگ خطے میں کس حد تک پھیل سکتی ہے، جنگ کتنی طویل ہوگی، نتیجہ کیا ہوگا، کیا ایران میں رجیم چینج ہوگا، اگر مذاکرات ہوئے تو شرائط کیا ہوں گی، پاکستان کا کردار کیا ہوگا، ایران کیسے یقینی بنائے گا کہ پاکستان میں توانائی بحران نہ ہو؟

ایسے ہی کچھ اہم سوالات کا جواب جاننے کیلیے میں نے کراچی میں ایران کے قونصل جنرل اکبر عیسیٰ زادے کا تفصیلی انٹرویو کیا۔ سفارتی زبان کو اپنے الفاظ دے کر مفہوم بدلنے سے بچانے کیلیے یہاں یہ انٹرویو لفظ بہ لفظ پیش کیاجارہا ہے۔

سوال:ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اردو میں بیان جاری کرکے پاکستان حکومت سے اظہار تشکر کیا ہے، کیا وجوہات ہیں کہ ایران ایک طرف خلیجی ممالک میں اہداف پر حملہ کررہا ہےجبکہ پاکستان کا مشکور ہے؟

اکبرعیسیٰ زادے: وزیر خارجہ عراقچی نے پاکستانی عوام اورحکومت کے نام جو پیغام دیا ہے اس میں سب سے پہلے ماہ رمضان کا تذکرہ ہے کہ مسلمان اس ماہ کو ماہ حرام کہتے ہیں مگر امریکا اور اسرائیل نے اس ماہ ایران پر حملہ کرکے اس مقدس مہینے کی حرمت کو نقصان پہنچایا ہے۔

ڈاکٹر عباس عراقچی نے یہ بھی کہا ہےکہ ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے پاکستان کی ملت اور حکومت کا شکریہ ادا کرتےہیں کہ پاکستان نےان حالات میں اظہار یک جہتی کیا جب دنیا کے تمام ممالک خاموش تھے۔

ڈاکٹر عراقچی یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم اپنی سرزمین، خودمختاری اور قومی سلامتی کا پوری بصیرت کےساتھ دفاع کرنے کیلیے تیار ہیں۔

یہ دفاع کاحق عالمی چارٹرکےمطابق ہے، اسی حق کو استعمال کرتےہوئے دشمن کےسامنے اپنا دفاع کررہے ہیں، دشمن ملک کے جتنے بھی فوجی اثاثے بھی ہیں، فوجی اڈے ہیں، انٹیلی جنس مراکز ہیں یا لاجسٹک مراکز ہیں،ہم ان پر حملہ اپنے دفاع کا حصہ تصور کرتے ہیں اور ہم انہی کو اپنا نشانہ قرار دے رہے ہیں۔یہ مراکز ان ممالک کا حصہ شمار نہیں ہورہے بلکہ درحقیقت یہ امریکا کا علاقہ ہیں، جسے ہم نشانہ بنارہےہیں۔

اگر ان ممالک میں موجود کسی غیر فوجی اثاثے پر حملہ ہورہا ہے تو وہ بھی اس لیے کہ اسے ہمارے خلاف حملے کیلیے استعمال کیا جارہا ہے۔مثال کے طور پر اگر کسی جگہ فوجیوں کو ٹہرایا جارہا ہے جیسے کہ ہوٹل میں تو وہ بھی ہمارا ہدف بنے گا،اسی طرح اگر کہیں انٹیلی جنس میٹنگ جاری ہے تو وہ بھی ہمارا ہدف ہوگا۔ اسی طرح اگر دشمن ہمارے کسی بنک پر حملہ کرتا ہے تو ہم خطے میں موجود وہ بنک جس میں امریکا شئیر ہولڈر ہے، اسے اپنا ہدف قرار دینے میں حق بجانب ہیں۔

سوال: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ ہے،وزیراعظم شہبازشریف، وزیرخارجہ اسحق ڈار اورفیلڈ مارشل کی یہ کوشش ہےکسی طرح پاکستان اس جنگ کا حصہ نہ بنےبلکہ اگرکسی صورت کشیدگی کم ہوسکتی ہے تو یقینی بنائی جائے۔کس قدر خدشات ہیں کہ ایران پاکستان دوستی کےمخالف عناصر کوئی ایسی حرکت کریں جس سےدونوں ملکوں میں کوئی بڑی غلط فہمی پیدا ہوجائےکیونکہ ایران کا دعوی ہے کہ اس نے آزربائیجان پرحملہ نہیں کیا جبکہ ترکیہ میں مبینہ ایرانی حملے کی تحقیقات میں تعاون کی بھی پیش کش کی ہے؟

اکبرعیسیٰ زادے:ایران کے جو حملے خطے کے ممالک میں جاری ہیں، ان میں درحقیقت امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔کسی ملک کی قومی سلامتی یا خودمختاری پر حملے نہیں کیے جارہے۔جو مشکوک حملے ہیں جیسا کہ ترکیہ اور آزربائیجان میں ہوئے، ان کا ایران سے تعلق ہی نہیں۔جہاں مشکوک حملے ہوئے ہیں، وہ ممالک ایران کے پاس آئیں اور ہم ایک معائنہ کمیٹی تشکیل دینے کیلیے تیار ہیں جو یہ طے کرے کہ یہ حملے کہاں سے کیے گئے۔

اس وقت خطے کے ممالک کی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ وہ خود کھلم کھلا اعلان کریں جیسا کہ پاکستان نے کیا ہے کہ ہم کسی طرح سے بھی امریکا کو اُکسا نہیں رہے کہ وہ ہمارے ملک کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے ایران کیخلاف حملے جاری رکھے۔تمام ممالک کو اس بات کی ایران کو ضمانت دینی چاہیے۔

سوال: پاکستان سفارتکاری کے لحاظ سے بہت باریک لائن پرچلنےپرمجبورہے، ایک طرف خلیجی دوست مسلم ممالک ہیں اور دوسری طرف پڑوسی مسلم ملک ایران۔ اسکا اظہار سلامتی کونسل میں ظاہر ہوا کہ پاکستان نے خلیجی ممالک اور روس دونوں کی قراردادوں کی حمایت کی۔ایک ایسے وقت کہ جب عباس عراقچی اور اسٹیو وٹکوف کےدرمیان براہ راست رابطے کا ذریعہ موجود ہے، آپ کے نزدیک پاکستان اس وقت جنگ کی شدت کم کرنے میں کیا کردار ادا کرسکتاہے؟

اکبرعیسیٰ زادے: پاکستان اور خطے کے بعض دیگر ممالک نے ہم سے کہا تھا کہ ہم مذاکرات کی میز پر آئیں، ان کی بات کا لحاظ کرتے ہوئے ہم امریکا کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے تھے،اب اگر مذاکرات کے درمیان امریکا نے ایران کیخلاف جارحیت کا ارتکاب کیا ہے تواسلامی ممالک کا فرض ہے کہ وہ جارح ملک کو بتائیں کہ وہ اس جارحیت سے ہاتھ کھینچے۔عالمی تنظیمیں اس وقت خاموش ہیں۔انکی خاموشی کو دیکتھے ہوئے اسلامی ممالک ہماری مدد کریں کہ جارحیت روکی جائے۔ جارحیت کا سامنا کرنیوالے ایران کی مدد کی جائے،اس ضمن میں عالمی تنظیموں میں قراردادیں منظور کرائی جاسکتی ہیں۔

اسرائیل کی جارحیت کی مثال دیتا ہوں کہ ترکیہ کا ایک رپورٹر مقبوضہ فلسطین گیا تاکہ حالات پیش کرے، وہاں اسرائیلی شہری سے اسکی ملاقات ہوئی، توقع تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ اسرائیلی کہے گاکہ ان کے ملک پر ظلم ڈھایا جارہا ہے،اسکے برعکس اسرائیلی شہری کا جارحانہ پن دیکھیں کہ اس نے رپورٹر سے کہا کہ فلسطین کے بعد اسرائیل کا ہدف ترکیہ ہوگا۔ امریکا جسے پورے خطے کیلیے خطرہ قرار دے رہا ہے وہ امن کیلیے خطرہ نہیں۔ اصل خطرہ اسرائیل ہے جسکا اپنے پاوں پھیلانا پورے خطے کے استحکام کیلیے خطرہ ہے۔

سوال: جنگ سےپہلے مذاکرات میں امریکا نے گول پوسٹ تبدیل کیا تھا،نیوکلیئراشو کے بعد میزائل اشو اٹھایا گیا اور پھر ایرانی حکومت کی امریکا اوراسرائیل مخالف آئیڈیالوجی پرسوال کھڑا کیا گیا۔ ایسے میں امریکی صدرکہتے ہیں کہ ایران مذاکرات پر تیارہےمگرامریکا نہیں،تو ایسے میں مذاکرات میں اب کسے زیادہ دلچسپی ہے؟

اکبرعیسیٰ زادے: ایران نے مذاکرات کی کوئی درخواست نہیں کی۔ سب سے پہلے امریکا اور اسرائیل کی جارحیت رکنی چاہیے پھر ایسے حالات قائم کیے جائیں کہ اس جارحیت کا ہمیشہ کیلیے راستہ روکا جائے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد ہم سفارتکاری کا راستہ اپنائیں گے مگر اس میں بھی ایسی سفارتکاری ہو جس میں طرفین کے مفادات کا احترام کیا جائے۔

سوال: جنگ میں جانی نقصانات سےپاکستان بھی متاثر ہورہا ہے۔ ابوظبی کے علاقے بنی یاس میں میں میزائل لگنےسے پیر کو ایک پاکستانی جاں بحق ہوا۔ ابتک جاں بحق پاکستانیوں کی تعداد تین ہوگئی ہے۔ ایک پاکستانی دبئی میں دو ابوظبی میں جاں بحق ہوئے۔شہری علاقوں پر ان حملوں سےآپ نہیں سمجھتے کہ ایران کے دوست ممالک میں بد دلی پیدا ہوسکتی ہے؟

اکبرعیسیٰ زادے: شہریوں کو نشانہ بنانا ایران کے مدنظرنہیں، پوری دنیا کو سامنے رکھنا چاہیے کہ ایران ہے جس پر جنگ تھونپی گئی، یہ ایران ہے جس کے اسکول پر حملہ کرکے ایک سواڑسٹھ معصوم بچیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ فوجی و غیرفوجی اہداف کو نشانہ بنایا جارہا ہے، یہ جارحیت خطے کے ممالک میں موجود امریکی اڈے استعمال کرکے جاری ہے۔ہمیں افسوس ہے ان ممالک پرکہ جو خود اپنی سرزمین امریکا کے اختیار میں دے رہے ہیں۔ دنیا کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون۔

سوال:ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر پرایرانی حملے کے بعد سے بنجامن نیتن یاہو کے زندہ یا مردہ ہونے سے متعلق مختلف دعوے کیے جارہےہیں۔آپ کے پاس کیا معلومات ہیں کہ نیتن یاہو زندہ ہیں یا مارے جاچکے؟

جس شخص کا نام لیا گیا ہے وہ زندہ ہے یا مرگیا، یہ ہمارے لیے اہمیت نہیں رکھتا۔ اہمیت اس بات کو دی جانی چاہیے کہ امریکا کی جو سیاست ہے وہ اسرائیل فرسٹ کی پالیسی ہے۔ تاریخ میں نیتن یاہو واحد شخص ہے جس نے امریکا کے تمام ارباب اختیار کو مجبور کردیا کہ وہ ٹرمپ دور میں اس وسیع جارحیت کا ارتکاب کریں۔ اب وہ زندہ ہو یا نہیں۔ کوئی اور بھی اسکی جگہ آئے گا تو خطے میں امریکا اوراسرائیل کی یہی پالیسی جاری رہے گی۔

سوال: آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے سپریم لیڈر بننے کے بعد سے اب تک کوئی ویڈیو پیغام جاری نہیں کیا، ایک آڈیو جاری کی گئی جس میں انتقام لینے اور خطے سے امریکی فوجی اڈے ختم ہونے کا مطالبہ کیا گیا، بظاہر اس کامطلب ہے کہ پرانی پالیسی برقرار ہے۔بظاہر خطے سےامریکی اڈے تو ختم ہوں گےنہیں، اسلیے صورتحال جوں کی توں رہےگی۔ کیا یہ تجزیہ درست ہے؟

اکبرعیسیٰ زادے: ایران کی بنیادی پالیسی یہ ہے کہ ممالک کو سکیورٹی اور قومی سلامتی خود اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی افواج کے بل بوتے پر ہو۔ ایران چاہتا ہے کہ وہ اچھا ہمسایہ بن کر دکھائے، ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کرے، امن وامان کی فضا برقرار رکھنے کےلیےہم نے تجاویز بھی دی ہیں کہ خطے کے تمام ممالک مل کر کمیٹی بنائیں کہ امن وامان کی فضا برقرا رکھی جائے۔ خطے کے دو ممالک یا چند ایک ممالک آپس میں مل کر سیکیورٹی معاہدہ کرلیں۔جہاں تک یہ بات ہے کہ دوسرے ممالک کے ہوائی اڈے یا انٹیلی جنس مرکز قائم کردیں کہ آپ کی سیکیورٹی قائم رہے تو یہ ممکن نہیں۔ پاکستان بھی اسی حکمت عملی کا قائل ہے کہ پاکستان میں کسی ملک کا کوئی اڈہ یا ہوائی اڈہ موجود نہیں ہے۔ پاکستان بھی اپنی قومی سلامتی کیلیے اپنی مسلح افواج پر بھروسہ کرتا ہے۔

سوال: کہا جارہا ہے کہ صدر مسعود پزشکیان اور قومی سلامتی مشیر علی لاریجانی سمیت کئی سرکردہ شخصیات چاہتی تھیں کہ حسن روحانی یا حسن خمینی جیسی نسبتا ماڈریٹ شخصیات میں سے کسی ایک کو سپریم لیڈر بنایا جائے گا مگر پاسداران اور قدامت پسند شخصیات کا اثر غالب آگیا، مجلس خبرگان میں ووٹوں کی تعداد بھی اس چیز کی کسی حدتک عکاسی کرتی ہے۔کیا خود آیت اللہ خامنہ ای اس موروثیت کےخلاف نہیں تھے کیونکہ ان کی وصیت میں ایسا نہیں تھا۔

اکبرعیسیٰ زادے: ایران میں رہبر کا انتخاب طویل عمل ہے۔یہ ایران کے قانون اور آئین کے مطابق ہے۔جیسے ہی مقام معظم رہبری کی شہادت ہوئی تو آئین کے تحت تین رکنی عبوری کمیٹی بنائی گئی۔پھر مجلس خبرگان جس میں بڑے بڑے صاحب رائے اور مجتہدین موجود ہیں، ان سے رائے لی گئی، بعض نے بذات خود آکر رائے دی جبکہ دیگر نے دیگر قانونی طریقوں سے رائے دی،ایک اور کمیٹی ہے جس میں تین افراد شامل ہوتے ہیں۔اس کمیٹی کا یہ کام ہے کہ وہ موجودہ رہبر پر نظر رکھتی ہے کہ آیا وہ اپنی زمہ داریاں پوری کررہا ہے یا نہیں، اس کمیٹی کا دوسرا کام یہ ہےکہ وہ اگلے رہبر کے بارے میں انتخاب تو نہیں کرتی محض تجویز دیتی ہے کہ اس کمیٹی کے خیال میں یہ تین یا چار شخصیات ہیں جو باصلاحیت ہیں،بطور رہبر کوالیفائی کرسکتے ہیں۔ مجلس خبرگان بھی اپنے نام تجویز کرتی ہے پھرپارلیمنٹ سے بھی رائے لی جاتی ہے اوراس طرح جسے سب سےزیادہ ووٹ ملیں وہ مکمل قانونی تقاضوں کے تحت رہبر منتخب ہوتا ہے۔ آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کا انتخاب بھی ان تمام مراحل سے گزر کر ہوا ہے اسلیے اب کسی کو اس کے خلاف رائے دینا کا حق نہیں ہوگا۔

سوال: بعض مغربی میڈیا کا دعوی ہے کہ آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای شدید زخمی ہوئے ہیں، ان کی شہادت سے متعلق بھی دعوےکیے جاتے رہے ہیں، کیا آپ تصدیق کرسکتے ہیں کہ وہ حیات ہیں؟

اکبرعیسیٰ زادے:جہاں تک آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کا تعلق ہے،وزیرخارجہ عباس عراقچی بھی کہہ چکے ہیں کہ سپریم لیڈر مکمل طور پر صحت مند ہیں اور اپنی زمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ یہاں میں یہ ذکر کرنا چاہوں گا کہ جو بارہ روزہ جنگ ہماری اسرائیل کےساتھ ہوئی اسکے بعد آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنی ذہانت اور بصیرت کے سبب ہمیں یہ بتانا شروع کردیا تھا کہ ایران کا نظام ایسا ہونا چاہیے کہ کوئی ملک جارحیت کرے اور کچھ شخصیات کو شہید کردے تو ان کی جگہ لینے کے لیے متبادل ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہر عہدے کیلیے ایران کے پاس متعدد افراد موجود ہیں، بنا کسی وقفے کے متبادل شخصیت جگہ لے لیتی ہے۔

سوال:یہاں میں کچھ اقتصادی امور جاننا چاہوں گا۔ پاکستانی حکومت کا کہنا ہےکہ 14 اپریل کے بعد ملک میں ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی۔ اسکا مطلب ہے کہ اپریل میں پاور سیکٹر کو گیس نہیں ملےگی۔اسطرح پاکستان میں انرجی اورپھرصنعتی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستان ایل این جی قطر سے حاصل کرتا ہے مگرقطر کو ایل این جی کی پیداوار ہی بند کرنا پڑی ہے۔ ایسے میں ایران ایل این جی کے حوالے سے پاکستان کی کیا مدد کرسکتا ہے؟

اکبرعیسیٰ زادے: ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں ہم نے قانونی تقاضے پورے کیے تاکہ پراجیکٹ آگے بڑھے اور پاکستان گیس بحران کا سامنا نہ کرے مگرعالمی پابندیوں کے سبب یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ پارہا۔ ایل این جی کے یا انرجی کے کنٹینر جو خلیجی ممالک سے پاکستان آتے ہیں اس بارے میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ آبنائے ہرمز بند نہیں ہے۔ وہ صرف امریکا، اسرائیل اور اسکے ایسے اتحادیوں کیلیے بند ہے جوخطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہےہیں۔ جو دیگر ممالک ہیں وہ خطے کا جو مجموعی معاہدہ ہے اسکو مد نظر رکھتے ہوئے یا جو دو ممالک کا باہمی معاہدہ ہے اسکے تحت انرجی کے کنٹینر آبنائے ہرمز سے گزار رہے ہیں۔ پاکستان کو بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ پاکستان اگر انرجی کے اپنے کنٹینر لانا چاہ رہا ہے وہ ایران کے ساتھ رابطہ کرکے لے جاسکتا ہے۔ اس میں کوئی بحران پیدا ہونے کا مسئلہ نہیں۔

سوال: کراچی نامی جہاز خام تیل لے کرکیماڑی بندرگاہ آیا جبکہ پالکی نامی دوسرا جہاز بھی جلد آبنائے ہرمز سے گزرنے والا ہے۔ان دوجہازوں کے علاوہ کیا کچھ دیگر جہازوں کو بھی اجازت ملے گی اور یہ بھی کہ اس حوالےسے رابطوں کا آغاز کیسے ہوا اور کس طرح یقینی بنایا گیا کہ پاکستان کو تیل کی سپلائی نہ روکے؟

اکبرعیسیٰ زادے: اس کا طریقہ یہ ہے کہ فرض کریں پاکستان کا اگر کوئی جہاز ہے جو ایل این جی یا خام تیل آبنائے ہرمزکے راستے لانا چاہتا ہے تووہ ایران کو درخواست کرےگا، ایران کی عسکری اور سیاسی قیادت اسے دیکھے گی اور اس جہاز کو اجازت دیدے گی۔ اس میں وقت کا مسئلہ نہیں،جتنے بھی جہاز آئیں گے ہم انہیں اجازت دیدیں گے۔

سوال: آخر میں یہ بتائیے کہ امریکی صدر نے پہلے کہا کہ جنگ ایک ماہ میں ختم ہوگی، پھر کہا دو ماہ میں۔مجھے یہ لگتا ہے کہ اگر عراق جنگ تقریبا نو سال جاری رہ سکتی ہے اور افغانستان جنگ بیس سال تک جاری رہ سکتی ہے تو ایران جنگ بھی برسوں چلے گی اور امریکا کا ہدف ایران کو تقسیم کرنا ہے تاکہ آذربائیجان، آرمینیا کے کچھ علاقوں ،سیستان بلوچستان پرکنٹرول کرے، آبنائے ہرمز سے ایران کی مرکزی حکومت کو دور کرے اور تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرے۔ کیا صورتحال اسی طرف جارہی ہے؟

اکبرعیسیٰ زادے:میرے نزدیک یہ مسلط کردہ جارحیت شارٹ ٹرم جنگ ہے، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے رجیم چینج کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکے گی کیونکہ ایرانی قوم متحد ہے اور دنیا بھر میں کوئی ایک بھی ایرانی ایسا نہیں جو ایران کو متحد نہ دیکھنا چاہتا ہو۔ جمہوریہ اسلامی ایران کیخلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت غیرقانونی ہے۔ اس جارحیت میں فوجی اور سرکاری اہداف پر حملے کیے گئےہیں، تجارتی کمپلیکس، اسکولوں ، بازاروں اور ثقافتی مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور سب سے بڑھ کرایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور متعدد ملٹری کمانڈروں کو شہید کیا گیا، یہ جارحیت مکمل طور پر منصوبہ بندی کے تحت تھی۔ اس جارحیت کا ہدف یہ تھا کہ ایران کو گھٹنوں کے بل جھکا دیا جائے۔ایران کا نظام نابود کردیا جائے اور حکومت اور عوام کے درمیان تعلق توڑ دیا جائے مگر وحدت، اتحاد اور اندرونی صلاحیتوں بشمول فوجی صلاحیتوں کے سبب عوام نے اسے ناکام بنادیا ہے۔ اسلیے میں مطمعن ہوں کہ اس جنگ میں ایران ہی فتح یاب ہوگا۔

[ad_2]

Source link

DAILY MITHAN

Website: https://dailymithan.com

متعلقہ کہانی
تازہ ترین
گزشتہ 24 گھنٹوں میں کویت پر ایران سے 4 میزائل اور 42 ڈرون حملے
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
Headline تازہ ترین
ایران کا آیت اللّٰہ خامنہ ای کے چہلم پر ملک بھر میں تعزیتی تقاریب کا اعلان
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
تازہ ترین
ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے دلچسپ اور تیز تر سفارتی کوششوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
Headline تازہ ترین
نیتن یاہو نے ٹرمپ کو کال کرکے کہا جنگ بندی نہ کریں، اسرائیلی عہدیدار
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
تازہ ترین
ٹرمپ کا بعض نیٹو ممالک کو ایران جنگ میں حمایت نہ کرنے پر سزا دینے پر غور : امریکی جریدہ
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
Headline تازہ ترین
فلوریڈاکے گورنرنے ریاست میں شریعہ قانون اور دہشتگرد گروہوں پر پابندی لگادی
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
تازہ ترین
ایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیں: نیتن یاہو
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
Headline تازہ ترین
ایران جنگ میں خدا امریکا کی مددکررہا ہے، صدر ٹرمپ
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
تازہ ترین
کسی بھی وجہ سے صورتحال غیرمتوقع ہوئی تو ایران پر پہلے سے زیادہ طاقتور حملے ہونگے: ٹرمپ
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
Headline تازہ ترین
ایرانی عوام صرف آزادی چاہتے ہیں وہ تکلیف بھگتنے کیلئے بھی تیار ہیں: ٹرمپ
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
Headline تازہ ترین
پاکستانی باکسر سمیر خان نے بھارتی جھنڈا زمین سے اٹھا کر اسپورٹس مین اسپرٹ کی مثال قائم کردی
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
تازہ ترین
امریکا نے فیصلہ کن آپریشن کیا، ایران کو جنگ بندی کیلئے گڑگڑانا پڑا: امریکی وزیر جنگ
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
Headline تازہ ترین
اسرائیلی انٹیلی جنس کی بڑی ناکامی، حزب اللہ رہنما کے بجائے اپنے ہی حامی کو ہلاک کردیا
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
تازہ ترین
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر شدید حملے، 254 افراد جاں بحق، 1100 سے زائد زخمی
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
Headline تازہ ترین
غزہ میں جنگی جرائم میں ملوث اسرائیلی فوجیوں کو نفسیاتی مسائل کا سامنا
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
تازہ ترین
سیز فائرکی خلاف ورزیاں امن عمل کی روح کو متاثرکر رہی ہیں، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں: وزیراعظم
DAILY MITHAN Apr 8, 2026
Headline تازہ ترین
خیرپور میں منکی پاکس کی وبا کی وفاقی سطح پر تحقیقات، ماہرین کی ٹیم اسلام آباد سے روانہ
DAILY MITHAN Apr 8, 2026
تازہ ترین
لبنان پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو ایران جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہو سکتا ہے: ایرانی میڈیا
DAILY MITHAN Apr 8, 2026
Headline تازہ ترین
دنیا بھر میں ایرانی سفارتخانوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو مذاق میں اُڑا دیا، ٹوئٹس وائرل
DAILY MITHAN Apr 8, 2026
تازہ ترین
ایران جنگ بندی کیلئے امریکا نے پاکستان پر دباؤ ڈالا، ٹرمپ 21 مارچ سے جنگ بندی کے خواہاں تھے: برطانوی اخبار
DAILY MITHAN Apr 8, 2026

Leave a Reply
Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

حالیہ نیوز
پاکستان
لبنانی وزیراعظم کی لبنان اور اس کے عوام پر حملوں کے فوری خاتمے کیلئے پاکستان سے تعاون کی درخواست
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
پاکستان
جے ڈی وینس سمیت دیگر امریکی حکام خصوصی مہمان ہونگے: محسن نقوی
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
پاکستان
امریکا ایران جنگ بندی سفارت کاری اور مکالمے کی فتح ہے: پاکستانی سفیر
DAILY MITHAN Apr 9, 2026
پاکستان
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کل رات پاکستان پہنچیں گے: ذرائع
DAILY MITHAN Apr 8, 2026