[ad_1]
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نےکہا ہےکہ اگر جنگ بند نہ ہوئی تو تیل کی قیمت ڈبل ہوجائےگی اور سپلائی میں بھی تعطل پیدا ہوجائےگا۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے علی پرویز ملک نےکہاکہ تیل کی سپلائی جاری رکھنےکے لیے پاکستان نے امریکا، افریقا، لیبیا اور نائیجیریا سے تیل منگوایا ہے مگر نیا تیل آنے میں وقت لگےگا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بعض ممالک میں قلت کے باوجود پاکستان نے صورت حال کو سنبھالا، حکومت نے صرف سبسڈی کا اعلان نہیں کیا بلکہ اس پر عملدرآمد بھی ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ امپورٹ اور ایکسپورٹ پر اب تک کوئی منفی اثر نہیں پڑا اور پاکستان سفارتی سطح پر بھی مؤثر کردار ادا کر رہا ہے ، تاہم انرجی انفرا اسٹرکچر کو چیلنجوں کا سامنا ہے، 14 مارچ سے 4 اپریل تک پیٹرولیم مصنوعات پر 129 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، چھوٹے کسانوں کو ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کفایت شعاری ، حکومتی سبسڈی اور تیل کی بڑھتی قیمتیں ملک میں تیل کی طلب کم نہ کرسکیں، دوسرے مرحلے میں اب پیٹرولیم مصنوعات کی راشننگ کیے جانےکا امکان ہے، ذرائع کے مطابق جنگ طویل ہونے کے پیش نظر حکومت اب تیل کے ذخائر محفوظ رکھنے کی طرف بڑھنے پر غور کرسکتی ہے، ایسا ہوا تو پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی محدود کی جاسکتی ہے۔
[ad_2]
Source link






















Leave a Reply