امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آج ایران پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کی طاقتور ترین حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں تمام اہداف مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے۔
امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ اُن کی ہدایت پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے فوجی اہداف اور خارک جزیرہ پر مشرق وسطیٰ کے طاقتور ترین حملے کیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی ہتھیاروں کی طاقت دنیا میں سب سے زیادہ جدید اور مہلک ہے، لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر انہوں نے جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا حکم نہیں دیا تاہم صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی میں مداخلت کرتا ہے تو وہ فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اپنے پہلے دور صدارت میں اور موجودہ دور میں انہوں نے امریکی فوج کو دنیا کی سب سے طاقتور اور مؤثر قوت بنایا ہے اور ایران کے پاس کوئی ایسی صلاحیت نہیں کہ وہ امریکا کی حملوں کا دفاع کر سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کبھی بھی نیوکلیئر ہتھیار نہیں رکھ سکے گا اور نہ ہی ایران امریکا، مشرق وسطیٰ یا دنیا کے لیے کوئی خطرہ بن سکے گا۔
امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے مشرقِ وسطیٰ پر قبضے اور اسرائیل کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے منصوبے اب مکمل طور پر مردہ ہو چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی فوج اور حکومت سے وابستہ دیگر کو خبردار کیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈالیں اور ملک کو بچائیں۔
یاد رہے کہ خارک نامی جزیرہ ایران کے ساحل سے 25 کلومیٹر دور واقع ہے، جہاں سے ایران کا 90 فیصد تیل عالمی منڈی میں جاتا ہے۔


























Leave a Reply