[ad_1]
امریکا کے سابق وائٹ ہاؤس توانائی مشیر باب مکنیلی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی مؤثر پالیسی حل موجود نہیں ہے، صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیں۔
باب مکنیلی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ فوجی نگرانی، تیل کے اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال یا گیس ٹیکس میں کمی جیسے اقدامات محض عارضی اور ثانوی نوعیت کے ہیں۔
باب مکنیلی نے کہاکہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کا کوئی مؤثر پالیسی حل موجود نہیں، صدر ٹرمپ کے پاس آپشنز محدود ہیں، جن میں سے زیادہ تر یا تو علامتی ہیں یا غیر مؤثر، جبکہ کچھ فیصلے نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
باب مکنیلی نے کہا کہ اصل حل صرف یہی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل کو مکمل طور پر بحال کیا جائے، تاہم اگر امریکا فوری طور پر جنگ ختم کرنے کا اعلان بھی کر دے تو بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھول دے گا اور صورتحال معمول پر آ جائے گی۔
ان کے مطابق ایران اگر مسلسل یہ صلاحیت ظاہر کرتا رہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جب چاہے جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے تو وہاں سے عالمی بحری آمدورفت کو متاثر کرنے کے لیے یہی کافی ہوگا۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply