[ad_1]
بادلوں میں، گاڑی کے فرنٹ یا کسی اور عام چیز میں، متعدد افراد کو اشیا میں چہرے دکھائی دیتے ہیں۔
مگر ہمیں مختلف چیزوں کو دیکھ کر چہرے کا خیال کیوں آتا ہے؟
اس کی وجہ کافی دلچسپ ہے مگر اس سے پہلے یہ جان لیں کہ نظروں کے اس دھوکے کو Face pareidolia کہا جاتا ہے۔
اس طبی اصطلاح کا مطلب عام اشیا میں چہروں کو دیکھنا یا روشنی اور سائے میں کسی قسم کا ڈیزائن نظر آنا ہوتا ہے اور متعدد افراد کو اس کا تجربہ ہوتا ہے۔
اب ایک نئی تحقیق میں اس کی ممکنہ وجہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
جرنل رائل سوسائٹی اوپن سائنس میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب تصاویر یا اشیا بہت زیادہ متوازن نظر آتی ہیں۔
تحقیق میں شامل 90 فیصد رضا کاروں نے اعتراف کیا تھا کہ انہیں دکھائی جانے والی تصاویر میں کم از کم ایک میں انہیں اشیا میں چہرہ نظر آیا۔
محققین نے بتایا کہ ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ حقیقی اشیا کے مقابلے میں تصاویر میں چہرے کم نظر آتے ہیں یا نہیں اور دریافت ہوا کہ حقیقی یا تصاویر دونوں میں لوگ یکساں طور پر چہرے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لوگ اکثر اس طرح کی اشیا میں مردوں یا جوان افراد کے خوش باش چہرے دیکھتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ البتہ اگر کوئی چہرے میں ناک کو دیکھتا ہے تو وہ اسے معمر یا مشتعل فرد کے چہرے کے طور پر دیکھتا ہے۔
محققین کے مطابق اس کی حقیقی وجہ تو ابھی بھی معلوم نہیں ہوسکی مگر بظاہر یہ عندیہ ملتا ہے کہ ہمارا دماغ غیر مانوس ماحول میں خطرے کو شناخت کرنے کے لیے کام کرتا رہتا ہے۔
اس سے قبل جولائی 2025 میں برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ جب لوگوں کی توجہ کسی حقیقی چہرے سے دیگر اشیا پر منتقل ہوتی ہے تو انہیں اس چیز میں چہرہ نظر آنے لگتا ہے۔
محققین کے مطابق ہماری تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ حقیقی چہروں اور اشیا کے درمیان توجہ تقسیم ہونے پر آپ کو عام چیزوں میں چہرے نظر آتے ہیں۔
نہوں نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ اس دماغی پراسیس کا سامنا توجہ کے مضبوط ردعمل کے باعث ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل i-Perception میں شائع ہوئے۔
اس سے قبل 2022 میں کوئنز لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ چہرے کے ساتھ ساتھ لوگ عمر، جذبات اور صنف کو بھی چیزوں میں دیکھتے ہیں۔
مگر زیادہ دلچسپ انکشاف یہ ہوا کہ چیزوں پر نظر آنے والے زیادہ تر چہروں کو مردانہ چہرے تصور کیا جاتا ہے۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے صنفی تصور کے حوالے سے چونکا دینے والا تعصب ثابت ہوتا ہے اور اس طرح کے زیادہ تر چہروں کو مردانہ قرار دیا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دریافت کیا کہ 34 فیصد افراد کو یہ چہرے خوش باش نظر آتے ہیں، 19 فیصد کو یہ کسی الجھن کا شکار لگتے ہیں جبکہ 14 فیصد کو لگتا ہے کہ ان چہروں سے غصہ جھلک رہا ہے۔
اسی یونیورسٹی کی ستمبر 2023 کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کو چیزوں پر چہرے زیادہ نظر آتے ہیں۔
2021 میں سڈنی یونیورسٹی کے ماہرین نے بھی اس حوالے سے ایک تحقیق کی تھی۔
اس تحقیق کے مطابق ہمارا دماغ مختلف اشیا پر نظر آنے والے چہروں کو دیکھ کر جذباتی طور پر ردعمل ظاہر کرتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے وہ حقیقی انسانی چہروں پر ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
محققین کے مطابق ہمارا دماغ ارتقائی طور پر چہروں کو شناخت کرنے کے لیے متحرک رہتا ہے اور اس کے خصوصی حصے چہروں کو دیکھنے اور شناخت کرنے کا کام کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسان سماجی میل جول پسند کرتے ہیں جس کے لیے چہروں کو شناخت کرنا ضروری ہوتا ہے اور ہمارا دماغ چہروں کو بہت تیزی سے شناخت کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارا دماغ اشیا پر نظر آنے والے چہروں پر بھی اسی طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے جیسا انسانی چہروں پر کرتا ہے۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply