[ad_1]
روس کا ایک تیل سے بھرا جہاز کیوبا کی سمندری حدود میں داخل ہوگیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق تیل کی یہ کھیپ جنوری کے بعد پہلی بار کیوبا پہنچی ہے۔ چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ روس سمیت دیگر ممالک کیوبا کو ضروری سامان فراہم کریں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ جو بھی ملک کیوبا کو تیل فراہم کرےگا اس پر اضافی ٹیرف عائدکیے جاسکتے ہیں۔
ٹرمپ کے اس بیان سے یہ اشارہ ملا کہ ان کی حکومت کی جانب سے جنوری سے کیوبا پر عائد غیر رسمی تیل کی پابندی میں نرمی آسکتی ہے۔
کیوبا پہلے ہی ملک بھر میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہا ہے اور اس پابندی نے ایندھن کی پہلے سے موجود کمی کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
گزشتہ ہفتے عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا تھا کہ شدید ایندھن کی کمی کے باعث کیوبا کے اسپتالوں کو ایمرجنسی اور انتہائی نگہداشت کی خدمات جاری رکھنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
خیال رہے کہ کیوبا کی صورتحال 3 جنوری کے بعد تیزی سے خراب ہوئی تھی جب امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ مادورو کیوبا کے قریبی اتحادی تھے اور وہ رعایتی شرائط پر اسے تیل فراہم کر رہے تھے۔
دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ وہ کیوبا کی مدد کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے تاکہ وہاں کے اہم توانائی کے نظام کو برقرار رکھا جاسکے، ماسکو اپنے اتحادی کو ایندھن کی کمی کے باعث مشکلات میں مبتلا ہوتے ہوئے خاموشی سے نہیں دیکھ سکتا۔
کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سخت پابندیوں کے باعث کیوبا کو تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی ضرورت ہے، روس آئندہ بھی کیوبا کو تیل کی فراہمی جاری رکھےگا، کیوبا کو تیل کی سپلائی کا معاملہ امریکا کے ساتھ بات چیت میں بھی زیر بحث آیا تھا۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply