[ad_1]
ایسا اکثر کہا جاتا ہے کہ سائنسدان زمین کے سمندروں کی تہہ کے مقابلے میں چاند کی سطح کے بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔
ویسے تو چاند کے تمام حصوں کے تفصیلی نقشے اور تصاویر برسوں سے دستیاب ہے مگر سمندری تہہ کا بیشتر حصہ اب بھی انسانوں کے لیے راز ہے۔
مگر ایسا لگتا ہے کہ بہت جلد اس حوالے سے نمایاں پیشرفت ہونے والی ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے سمندری تہہ کا ایک نیا نقشہ جاری کیا ہے جس کے لیے خلا سے جمع کیے گئے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔
اس منصوبے کا مقصد رواں دہائی کے اختتام تک تمام سمندری تہہ کا تفصیلی نقشہ تیار کرنا ہے۔
یہ نیا نقشہ سرفیس واٹر اینڈ اوشین ٹوپوگرافی سیٹلائیٹ کی مدد سے تیار کیا گیا۔
یہ ناسا اور فرانس کے خلائی ادارے سی این ای ایس کا مشترکہ مشن ہے جسے دسمبر 2022 میں لانچ کیا گیا تھا۔
یہ سیٹلائیٹ زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے ہر 21 دن میں 90 فیصد سیارے کو اسکین کرلیتا ہے۔
یہ سیٹلائیٹ دنیا بھر میں سمندروں، جھیلوں اور دریاؤں کی اونچائی کی جانچ پڑتال بھی کرتا ہے۔
ناسا کے مطابق یہ سیٹلائیٹ عالمی سمندری تہہ کو دیکھنے میں مدد فراہم کرے گا اور ہم وہاں کا نقشہ تیار کرسکیں گے۔
سائنسی تجسس کے ساتھ ساتھ سمندری تہہ کے بارے میں جاننے سے سمندری نیوی گیشن، کمیونیکیشن کیبل کی تنصیب، سمندری تہہ میں کان کنی، سمندری راستوں کو بہتر بنانے، ممکنہ خطرات سے آگاہی اور دیگر رازوں کو جاننے میں مدد ملے گی، جن سے ابھی تک ہم واقف نہیں۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply