[ad_1]
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا دونوں ہی ڈیل چاہتے ہیں اور ڈیل کے بیشتر نکات پر متفق بھی ہیں، ڈیل کے لیے ایران کو اپنی افزودہ یورینیئم امریکا کو دینی ہوگی ، ڈیل ہوئی تو آبنائے ہرمز کو فوری کھولنا ہوگا۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی ایک اہم اور قابل احترام ایرانی شخصیت سے بات ہوئی ہے جس کا نام وہ نہیں بتانا چاہتے، سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای سے بات نہیں ہوئی ہے، نہیں جانتا نئے ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں یا نہیں؟ سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کے بارے میں کچھ نہیں سنا، نہیں چاہتا کہ مجتبی خامنہ ای کو قتل کیا جائے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے لیے ایران نے امریکا سے رابطہ کیا ہے ، امریکا نے ایران سے رابطہ نہیں کیا، گزشتہ رات اور اس سے ایک روز پہلے ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات ہوئے، دو دن سے جاری مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہورہی ہے۔ ڈیل کی ضمانت کوئی نہیں، بات اس جانب چل رہی ہےکہ مشرق وسطیٰ میں امن ہو اور کسی کے پاس ایٹمی ہتھیار یا افزودہ یورینیم نہ ہو ، گر ڈیل ہوگئی تو ایران کا افزودہ یورینیم امریکی استعمال میں لائیں گے۔
خطے میں امریکی میرینز کی تعیناتی پر ٹرمپ نےکہا کہ جنگی حکمتِ عملی پر بات نہیں کرتے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگ کو پانچ دن تک ایرانی پاور پلانٹس پر حملے سے روک دیا ہے، میری ساری زندگی مذاکرات کرتے گزری ہے، ایران سے بھی بہت طویل طویل مذاکرات کیے ہیں، اس بار ایران سے مذاکرات سنجیدہ نوعیت کے ہیں، پچھلے تین ہفتوں میں ایران کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کیا، ایرانی بحریہ، ایرانی فضائیہ، ایرانی قیادت کو ختم کیا، ایران کی میزائل صلاحیت تیزی سے بڑھ رہی تھی، اسرائیل سے بات ہوگئی ہے وہ تازہ پیشرفت پر خوش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اس کے جہازوں پر بھرا تیل فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، ایران 47 سال سے خطرہ تھا، اگر ڈیل ہوئی تو خطے اور ایران کے لیے اچھا آغاز ہوگا، اگر بی 52 بمبار سے حملہ نہ کرتے تو ایران چند ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنالیتا، 15 نکات پر ایران سے بات چیت چل رہی ہے، نکات میں سرفہرست ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے ۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply