[ad_1]
آبنائے ہرمز کا بحران صرف تیل تک محدود نہیں ہے، خبروں کی شہ سرخیوں کے پیچھے چھپے ہوئے اصل ‘سپلائی شاکس’ وہ ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی کا نقشہ بدلنے والے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے بحران کو تین ہفتے گزر چکے ہیں، مگر عالمی بحث اب بھی صرف تیل پر مرکوز ہے۔ برینٹ کروڈ 100 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کھولے جا رہے ہیں، اور بحری جہازوں کی حفاظت کے لیے جنگی بیڑوں کی نگرانی پر بات ہو رہی ہے۔ توانائی کے اس جھٹکے کی ایک واضح کہانی ہے، ایک طے شدہ قیمت ہے اور اس سے نمٹنے کا ایک روایتی ڈھانچہ بھی موجود ہے۔
لیکن یہی 21 میل چوڑی آبی گزرگاہ جو دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا خام تیل لے کر جاتی ہے، ایسی اشیاء کی ترسیل کا راستہ بھی ہے جن کے متبادل کا کوئی انتظام موجود نہیں۔ عالمی سطح پر کھاد کی کل تجارت کا ایک تہائی حصہ، دنیا کے 44 فیصد سلفر کی تجارت، مشرقِ وسطیٰ کی 85 فیصد پولی ایتھیلین اور عالمی ہیلیم کا ایک چوتھائی حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یہ وہ پیٹروکیمیکل خام مال ہے جو ادویات، مصنوعی کپڑے، خوراک کی پیکیجنگ، ربڑ، بیٹریوں اور کمپیوٹر چپس کی تیاری میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
دنیا نے 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران کے بعد پچاس سال لگا کر تیل کے ‘اسٹریٹجک ذخائر’ تو بنا لیے مگر دستیاب معلومات کے مطابق آج دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جس نے کھاد، ادویاتی خام مال یا ہیلیم کے لیے ایسے ہنگامی ذخائر رکھے ہوں۔ ہم نے تیاری اس بحران کی تو کی جس کی سب کو توقع تھی، نہ کہ ان مسلسل بحرانوں کی جو ایک ہی مرکز (Chokepoint) سے جنم لے سکتے ہیں۔
خفیہ سپلائی چینز: نظر نہ آنے والے خطرات
ذرا سوچیں کہ خام تیل اور ایل این جی کے علاوہ اس راستے سے اور کیا گزرتا ہے۔
کھاد (Fertiliser): خلیجی ممالک یوریا کی عالمی سمندری تجارت کے تقریباً آدھے حصے کے ذمہ دار ہیں۔ ‘قطر انرجی’ نے معاہدے کے تحت سپلائی کی فراہمی سے معذوری (Force Majeure) کا اعلان کر دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ غیر متوقع حالات کی وجہ سے کھاد فراہم کرنے کے پابند نہیں رہے۔ جبکہ چین نے فاسفیٹ کی برآمدات محدود کر دی ہیں۔ چند دنوں میں یوریا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، جبکہ شمالی نصف کرہ میں بوائی کا موسم جاری ہے اور جنوبی ایشیائی زراعت کے لیے ‘خریف’ کا دورانیہ مئی سے شروع ہوتا ہے۔ اگر اگلے چند ہفتوں میں کھاد فراہم نہ ہوئی تو اس سال کی فصل برباد ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسا حیاتیاتی معاملہ ہے جو سفارت کاری کا انتظار نہیں کرتا۔
ادویات (Pharmaceuticals): پیراسیٹامول سے لے کر ذیابیطس کی عام دوا ‘میٹ فارمن’ تک دنیا کی تقریباً تمام ادویات کسی نہ کسی مرحلے پر پیٹروکیمیکل خام مال پر انحصار کرتی ہیں۔ بھارت، جو دنیا بھر کو ادویات فراہم کرنے والا بڑا ملک ہے، اس راستے پر کافی حد تک انحصار کرتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ تعطل برقرار رہا تو 4 سے 6 ہفتوں میں ضروری ادویات کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
ہیلیم (Helium): قطر دنیا کی ایک تہائی ہیلیم پیدا کرتا ہے۔ ہیلیم دیگر اشیاء سے مختلف ہے: یہ مسلسل بخارات بن کر اڑتی رہتی ہے اور اسے طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا ممکن نہیں۔ عالمی سپلائی چین کے پاس صرف 45 دن کا اسٹاک ہوتا ہے۔ ایم آر آئی مشینیں ہوں، کمپیوٹر چپس کی تیاری یا راکٹ لانچنگ سسٹم—ہیلیم کا کوئی متبادل نہیں۔
سری لنکا کی مثال: ایک انتباہ
2021 میں سری لنکا نے مصنوعی کھاد پر سات ماہ کی پابندی لگائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چاول کی پیداوار ایک تہائی کم ہو گئی، قیمتیں بڑھ گئیں اور ملک کو وہ چاول درآمد کرنا پڑا جسے خریدنے کی اس کی سکت نہیں تھی۔ یہ معاشی جھٹکا سیاسی بحران میں بدلا اور 15 ماہ کے اندر حکومت گر گئی۔ وہ بحران صرف ایک ملک تک محدود تھا، لیکن موجودہ صورتحال درجنوں ایشیائی معیشتوں کو متاثر کر رہی ہے۔
ساختی سوال
تیل کے بحران سے نمٹنے کے لیے تو دنیا کے پاس ایک مکمل لائحہ عمل (Playbook) موجود ہے، لیکن کھاد، ادویاتی خام مال یا ہیلیم کے لیے ایسا کوئی عالمی نظام موجود نہیں۔ سعودی عرب نے ہرمز سے بچنے کے لیے جو پائپ لائن بنائی وہ تیل کے لیے ہے، امونیا کے لیے نہیں۔ ہم نے اس شے کے لیے تو تیاری کر لی جس کے کھونے کا ہمیں ڈر تھا، مگر ان اشیاء کو نظر انداز کر دیا جو ہماری خوراک، صحت اور جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
درآمدات پر منحصر معیشتوں کے لیے تیل کا جھٹکا تو صرف پہلا منظر ہے۔ اس کے بعد جو طوفان خوراک کی قیمتوں اور ادویات کی قلت کی صورت میں آئے گا، اسے سنبھالنا کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔ توانائی کی قیمتیں تو شاید بالآخر مستحکم ہو جائیں گی، مگر فصلوں کا کیلنڈر کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
آج کے پالیسی سازوں کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ تیل کی قیمتوں کے شور میں اس سوال کا جواب تلاش کریں: “اس جہاز پر مزید کیا تھا؟”
________________________________________
مصنف پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین ہیں اور ٹیکنالوجی کے طالب علم ہیں۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
[ad_2]
Source link


























Leave a Reply