ہم سب ہی صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور یہ خواہش ہوتی ہے عمر میں اضافے کے ساتھ کم از کم بیماریوں کا سامنا ہو۔
اب ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 جیسے دائمی مرض سے بچنے کے لیے ہر رات کتنے گھنٹے کی نیند ضروری ہے۔
جی ہاں واقعی جرنل بی ایم جے اوپن ڈائیبیٹس ریسرچ اینڈ کیئر میں شائع تحقیق میں ذیابیطس سے تحفظ کے لیے ہر رات کی نیند کے مثالی دورانیے کا تعین کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ نیند کے دورانیے اور انسولین کی حساسیت کے درمیان تعلق موجود ہے اور یہ ذیابیطس ٹائپ 2 سے تحفظ یا خطرہ بڑھانے میں کردار ادا کرنے والا عنصر ہے۔
اس تحقیق کے لیے امریکا کے نیشنل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزمینیشن سروے کے ڈیٹا کو جمع کیا گیا اور دیکھا گیا کہ نیند کس طرح بلڈ گلوکوز کے افعال پر اثر انداز ہوتی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر زیادہ وقت تک سونے سے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ لگ بھگ 23 ہزار افراد کا ڈیٹا تھا اور اس کی اچھی طرح جانچ پڑتال کی گئی۔
تحقیق کے مطابق ذیابیطس ٹائپ 2 سے تحفظ کے لیے ہر رات اوسطاً 7 گھنٹے 19 منٹ سونے کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ہفتہ وار تعطیل پر 8 گھنٹے کی نیند بہترین ہوتی ہے۔
تحقیق کے مطابق 7 گھنٹے 19 منٹ کی نیند سے ہی انسولین کی حساسیت بہتر ہونے لگتی ہے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔
محققین نے ان افراد کو مختلف گروپس میں تقسیم کیا اور پھر ڈیٹا کا ایک بار پھر تجزیہ کیا تو لگ بھگ وہی نتائج سامنے آئے۔
تحقیق میں یہ بھی دریافت ہوا کہ اگر آپ عام دنوں میں کم وقت تک سوتے ہیں مگر ہفتہ وار تعطیلات کے موقع پر 2 یا اسے زائد گھنٹوں کی اضافی نیند کو عادت بناتے ہیں تو اس سے بھی انسولین کی حساسیت بہتر ہوتی ہے۔
اس حوالے سے مزید تحقیق سے انکشاف ہوا کہ ہر ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر اضافی 2 گھنٹوں کی نیند سے ان لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے جو عام دنوں میں 7 گھنٹے 19 منٹ سے کم وقت تک سونے کے عادی ہوتے ہیں۔
محققین کے مطابق نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی نیند کی کمی اور انسولین کی مزاحمت کے درمیان تعلق کو دریافت نہیں کیا جاسکا۔
مگر انہوں نے زور دیا کہ اچھی صحت کے لیے ہر رات ایک وقت پر سونے اور صبح ایک وقت پر جاگنے کے تسلسل کو اپنانا ضروری ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اچھی نیند سے یقیناً ذیابیطس جیسے مرض سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔


























Leave a Reply