سائنسدانوں نے معدے اور دماغ کے درمیان موجود ایک ایسا تعلق دریافت کیا ہے جو دماغی تنزلی کے اسرار پر روشنی ڈالتا ہے۔
اوسطاً ہر فرد کی یادداشت عمر میں اضافے کے ساتھ متاثر ہوتی ہے، مگر کچھ افراد کی یادداشت بہت تیزی سے تنزلی کا شکار ہوتی ہے جبکہ دیگر میں یہ تبدیلی محسوس نہیں ہوتی۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ عمر میں اضافے کے ساتھ یادداشت کے مسائل ممکنہ طور پر ہمارے معدے اور وہاں موجود بیکٹیریا کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
جرنل نیچر میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس اثر کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ہمارا جسم اندرونی ماحول پر کیسے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
اس تحقیق میں انسانوں کی بجائے جانوروں کو شامل کیا گیا تھا اور دیکھا گیا کہ معدے میں موجود بیکٹیریا کس حد تک عمر میں اضافے کے ساتھ یادداشت کی تنزلی میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق میں معدے میں موجود بیکٹیریا، مدافتعی نظام، دماغ تک پیغامات ترسیل کرنے والے اعصابی نظام اور دماغ کے درمیان تعلق دریافت کیا گیا۔
جسم کے متعدد دیگر سسٹمز کی طرح معدے میں موجود بیکٹیریا بھی عمر کے ساتھ بتدریج تبدیل ہوتے ہیں۔
اس تحقیق میں چوہوں کو شامل کیا گیا اور جوان چوہوں کے بیکٹیریا کو بوڑھے چوہوں کی طرح کر دیا گیا۔
محققین نے دریافت کیا کہ ایسا کرنے پر جوان چوہوں میں دماغی تنزلی لگ بھگ ویسے ہی ہوگئی جیسی بوڑھے چوہوں میں نظر آتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں چونکہ چوہوں پر کام کیا گیا تو انسانوں میں نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل جنوری 2025 میں آئرلینڈ کی یونیورسٹی کالج کارک کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ معدے اور دماغ کے درمیان تعلق موجود ہے جو ڈپریشن اور انزائٹی جیسے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ہماری آنتوں میں موجود کھربوں بیکٹیریا ہماری دماغی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ انسانی آنتوں میں موجود کھربوں بیکٹیریا، فنگس اور دیگر ننھے جاندار نہ صرف ہمارے ہاضمے اور مدافعتی نظام کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ ہمارے دماغی صحت اور سوچنے کے انداز پر بھی اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔
تحقیق میں شامل محقق جان کرائن نے بتایا کہ انسانی جسم میں موجود یہ ننھے جاندار غذائی اجزا کو جذب کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بیکٹیریا یا دیگر جاندار دماغی صحت اور رویوں پر بھی نمایاں اثرات مرتب کرتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ بیکٹیریا دماغی امراض جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور schizophrenia کے علاج میں بھی معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
محققین کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا، پروبائیوٹیکس کے زیادہ استعمال اور اچھی نیند ہمارے جسم کے اندر صحت کے لیے مفید بیکٹیریا اور دیگر جانداروں کی تعداد میں توازن برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنے والے عناصر ہیں۔


























Leave a Reply