کراچی: سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری میں سی ای او واٹرکارپوریشن احمد علی صدیقی نے کمیشن کے سوالنامے کا جواب جمع کروادیا۔
احمد علی صدیقی نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد آپریشن میں 7 قانونی ہائیڈرنٹس سے پانی دیا گیا۔
سی ای او واٹر کارپوریشن کی رپورٹ کےمطابق فوکل پرسن واٹرکارپوریشن کو گل پلازہ آگ کی اطلاع 11 بج کر 13 منٹ پر ملی، اطلاع ملتے ہی ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے واٹر باؤزر روانہ کیے، ابتدائی طور پر نیپا، صفورا اور سخی حسن ہائیڈرنٹس سے باؤزر روانہ کیے گئے جب کہ آگ کی شدت میں اضافے کے بعد دیگر ہائیڈرنٹس سے بھی باؤزر طلب کیے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ رات 11 بج کر 56 منٹ سے مسلسل گل پلازہ کوپانی کی فراہمی جاری رکھی گئی، فائر ہائیڈرنٹس کی فعالیت اور پانی کے پریشر واٹر کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں نہیں۔
رپورٹ کے مطابق سانحہ گل پلازہ سے قبل فائر بریگیڈ کو ہائیڈرنٹس اور پانی کی فراہمی سے متعلق خط لکھا تھا، 26 دسمبرکے خط میں پانی کےلیے ٹینک بنانے اورباقاعدہ کنکشن کی درخواست دینےکا کہا گیا، واٹر کارپوریشن کو تاحال فائر بریگیڈ کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا، قانون کے تحت واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کا بنیادی کام شہر میں پانی دینا ہے، واٹر کارپوریشن فائرفائٹنگ ہائیڈرنٹس کی دیکھ بھال یا پریشرائزڈ پانی دینے کا ذمہ دارنہیں، یہ ذمہ داری کے ایم سی اور فائر بریگیڈ کے دائرہ اختیار میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق واٹر کارپوریشن کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فائر بریگیڈ کے ساتھ تعاون کرتا ہے، مرکزی فائر اسٹیشن اور صدر فائر اسٹیشن کو یومیہ چھ گھنٹے پانی دیتا ہے، گل پلازہ تک فاصلہ،اطراف میں تعمیراتی کام اورٹریفک جام سےآگ کنٹرول میں مشکلات ہوئیں۔


























Leave a Reply