تمباکو نوشی کو صحت کے لیے تباہ کن قرار دیا جاتا ہے جو کینسر، امراض قلب اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے۔
اب اس عادت کا ایک اور بڑا نقصان دریافت ہوا ہے۔
ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تمباکو نوشی کے عادی والد کے بچوں کو مستقبل میٹابولک مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
میٹابولک مسائل سے جسم کی بلڈ گلوکوز کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔
امریکا کی کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ تمباکو نوشی کی عادت ناقص صحت کی سب سے اہم وجوہات میں سے ایک ہے جس سے نجات پاکر متعدد امراض سے بچنا ممکن ہے۔
تحقیق کے مطابق اگر سگریٹ نوشی سے نجات پانے سے ذیابیطس کا شکار ہونے سے مدد مل سکتی ہے، خاص طور پر مردوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے۔
تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے گئے اور دریافت ہوا کہ جب نر چوہے نکوٹین (تمباکو میں پائے جانے والا جز) کا استعمال کرتے ہیں تو ان کے بچوں کی مٹابولزم افعال میں منفی تبدیلیاں آتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ مردوں کی تمباکو نوشی کی عادت ان کی اولاد میں ذیابیطس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
چوہوں میں تجربات کے دوران معلوم ہوا کہ نر چوہوں کی اولاد میں انسولین کی سطح کم تھی جبکہ خالی پیٹ گلوکوز کی سطح بھی معمول سے کم تھی۔
تحقیق میں جگر کے افعال میں تبدیلیوں کو بھی دیکھا گیا جن سے موٹاپے اور ذیابیطس جیسے مسائل کا خطرہ بڑحتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل آف دی Endocrine Society میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply