انسانوں کو دیگر جانداروں سے جو چیز منفرد بناتی ہے، وہ ہمارے سوچنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہے۔
مگر لارج لینگوئج ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی انسانوں کی اس انفرادیت کے خاتمے کا باعث بن سکتے ہیں اور انسانوں کو یکساں انداز سے سوچنے اور رابطے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
یہ دعویٰ ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا۔
سائنسدانوں اور ماہرین نفسیات کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں کروڑوں افراد گنتی کے چند آرٹی فیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹس استعمال کر رہے ہیں اور وہ ہمارے ذہنوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اے آئی ٹولز کے استعمال سے انسان منفرد یا انفرادی انداز سے سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہو رہے ہیں اور حیران کن طور پر لوگوں میں ایک جیسی ذہنیت یا خیالات عام ہوتے جا رہے ہیں۔
محققین نے بتایا کہ لوگوں کی تحریر، دلائل اور خیالات ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں اور یہ ہم انسانوں کی اہم ترین ذہنی صلاحیت ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اے آئی ماڈلز تخلیقی سوچ کے لیے نیا خطرہ بن گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی ٹیکنالوجیز سے بھی ذہن کو بدلنے میں کردار ادا کیا، انٹرنیٹ نے بالادست ثقافتی معمولات کے پھیلاؤ کا عمل تیز کیا، جی پی ایس نے راستے تلاش کرنے کی صلاحیت کو متاثر کیا، مگر یہ ٹولز اے آئی کی طرح سوچنے اور خود کو بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے۔
محققین کے مطابق اے آئی ماڈلز صارفین کو کسی چیز کے بارے میں سوچنے کا حتمی راستہ فراہم کرتے ہیں اور جب آپ کے سامنے حتمی رائے موجود ہو تو وہی چیز آپ کی رائے یا خیالات کا حصہ بن جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس طرح چند اے آئی سسٹمز دنیا بھر میں کروڑوں افراد کےخیالات کو یکساں بنا رہے ہیں۔
اس تحقیق کے نتائج جرنل Trends in Cognitive Sciences میں شائع ہوئے۔


























Leave a Reply