گزشتہ چند دہائیوں میں امریکا نے انسانی تاریخ کے سب سے خوفناک ہتھیاروں کا ذخیرہ تیار کیا ہے جن کا سامنا اب ایران کر رہا ہے۔
غیر ملکی جریدے کے مطابق امریکا ایران کی جنگ میں اپنے کئی ہتھیاروں کی پہلی بار آزمائش کر رہا ہے۔
28 فروری سے شروع ہونے والے “آپریشن ایپک فیوری”کے بعد سے امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے ہتھیار استعمال کیے جن میں ڈرون،تارپیڈو اور لانگ رینج میزائل سے لےکر ایف 35 طیارے شامل ہیں۔
ایران جنگ میں استعمال کیے جانے والے امریکی لوکس ڈرونز لمبے فاصلے تک مار کرسکتے ہيں اور نسبتا کم قیمت ہیں جو 35 ہزار ڈالرز میں پڑتے ہیں۔ ڈیڑھ ملین ڈالر کا پانچ سو کلو میٹر تک مار کرنے والا میزائل پی آر ایس بھی ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔
اسی جنگ میں امریکا ایف 35 اسٹیلتھ فائٹر طیارے بھی استعمال کررہا ہے جو کسی بھی جنگ میں پہلی بار استعمال کیے جارہے ہیں۔ یہ طیارے بیس سال پہلے بنائےگئے تھے لیکن ان کا ٹیسٹ اب پہلی بار ایران میں کیا جارہا ہے۔ ایک ایف 35 طیارہ 80 ملین ڈالر میں تیار ہوتا ہے۔
اسی طرح امریکا ٹوما ہاک میزائل کا ایک نیا ویریئنٹ بھی استعمال کر رہا ہے جو 2 ملین ڈالر میں تیار ہو رہا ہے۔
غیر ملکی جریدے کا کہنا ہے کہ اس جنگ کی کہانی اب تک امریکا کی غالب فوجی طاقت اور ایران کی زندگی کی مضبوط خواہش کے درمیان جاری ہے۔


























Leave a Reply