آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل تنصیبات پر حملوں کے اثر کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہی دن میں 30 فیصد کا بڑا اضافہ ہوگیا۔
دوران کاروبار برطانوی خام تیل برینٹ کی فی بیرل قیمت 119.50 ڈالر جب کہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی فی بیرل قیمت 119.48 ڈالر تک پہنچ گئی۔
امریکی اخبار کے مطابق کورونا وبا کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے مہنگا ہوا ہے۔
دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں کمی کےلیے جی7 ممالک متحرک ہوگئے اور انہوں نے خام تیل کے ہنگامی ذخائر کے استعمال کی تجویز دی ہے جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں واپس کم ہونا شروع ہوگئی ہیں۔
اس وقت برطانوی خام تیل برینٹ کی فی بیرل قیمت 102 ڈالر جب کہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی فی بیرل قیمت 99.80 ڈالر ہے۔
اس حوالے سے فرانس کی زیر صدارت جی 7 ممالک کے وزرائے خزانہ کا ورچوئل اجلاس ہوا جس میں قیمتوں میں کمی کے لیے تیل کے ہنگامی ذخائر کے استعمال کی تجویز پر غور ہوا۔
خبر ایجنسی کے مطابق خام تیل کے ہنگامی ذخائر کے استعمال پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا، مارکیٹ مستحکم کرنے کے لیے ہر ضروری ذریعہ استعمال کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔
فرانسیسی وزیر خزانہ کے مطابق ضرورت کے مطابق ذخائر جاری کرنے کا امکان بھی شامل ہے، صورتحال پر گہری نظر ہے، یورپ اور امریکا میں فی الحال ایندھن فراہمی کا مسئلہ نہیں ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تاجروں کو خلیج فارس سے تیل اور قدرتی گیس کی رسائی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش لاحق ہے۔ ایران کے جنوبی ساحل پر واقع آبنائے ہرمز تقریباً ایک ہفتے سے بند ہے، جس کے باعث خطے میں پیدا ہونے والا ایندھن عالمی منڈیوں تک نہیں پہنچ پا رہا۔ دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اور بڑی مقدار میں قدرتی گیس عام طور پر روزانہ اس آبنائے سے گزرتی ہے۔


























Leave a Reply