اسلام آباد: پی ٹی آئی رہنماؤں کو بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس، جسٹس یحییٰ آفریدی قانون کی سختی سے پیروی کریں گے اور قانونی دائرہ کار سے باہر کوئی بھی خصوصی ریلیف فراہم نہیں کریں گے۔
پارٹی کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعہ کے روز چیف جسٹس سے ملاقات کے بعد سینئر پارٹی رہنماؤں کو بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے واضح کیا کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کریں گے اور عمران خان کی طبی حالت سے متعلق کسی بھی درخواست کو مناسب قانونی فورم میں دائر کرنے کا مشورہ دیا۔
بیرسٹر گوہر نے اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ سے براہِ راست ابتدائی ریلیف حاصل کرنے کی کوشش کی تھی، بجائے اس کے کہ وہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ذریعے آگے بڑھاتے۔ پی ٹی آئی نے درخواست کی تھی کہ عمران خان کو اسلام آباد کے کسی منتخب اسپتال میں منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی ڈاکٹرز کو جیل میں ان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔
اسی دن سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی جانب سے دائر درخواست واپس کر دی، جس میں اس کے بانی کو خصوصی ریٹینا اسپیشلسٹ کے ذریعے آنکھوں کے علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
اس سے قبل 25 فروری کو خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے سپریم کورٹ میں آرڈر XXXV رول 6 کے تحت درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ قید سابق وزیرِ اعظم کو فوری طور پر شفاء انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جائے تاکہ ان کی آنکھوں کا مناسب معائنہ اور علاج ریٹینا اسپیشلسٹ کے ذریعے ہو سکے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ خان کے ذاتی ڈاکٹرز، ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عاصم یوسف کو رسائی دی جائے تاکہ وہ تمام معائنہ اور علاج کے مراحل میں حصہ لے سکیں۔ مزید برآں عدالت سے استدعا کی گئی کہ خان کے اہل خانہ کو معلومات فراہم کی جائیں اور انہیں طبی معائنہ اور علاج کے دوران مناسب رسائی دی جائے۔
تاہم جمعہ کوسپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اعتراضات لگاتے ہوئے درخواست واپس کر دی ۔ دفتر نے 12 فروری کے عدالت کے سابقہ آرڈر کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر درخواست گزار کو کوئی شکایت ہے تو اسے مناسب فورم، یعنی اسلام آباد ہائی کورٹ میں لے جانا چاہیے جہاں ان کی اپیل زیرِ غور ہے۔






















Leave a Reply