ایران چین سے سُپرسونک اینٹی شپ کروز میزائل خریدنے کے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چینی ساختہ CM-302 میزائلوں کی خریداری کا معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے تاہم میزائلوں کی فراہمی کی تاریخ پر ابھی اتفاق نہیں ہوا۔
یہ سپر سونک میزائل تقریباً 290 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کم بلندی پر تیز رفتاری سے پرواز کرتے ہوئے بحری جہازوں کے دفاعی نظام کو چکمہ دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
چین کی سرکاری کمپنی چائنا ایرو اسپیس سائنس اینڈ انڈسٹری کارپوریشن CM-302 کو دنیا کا بہترین اینٹی شپ میزائل قرار دیتی ہے جو ائیرکرافٹ کیریئر یا ڈسٹرائر کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس میزائل سسٹم کو بحری جہازوں، طیاروں یا زمینی موبائل لانچرز پر نصب کیا جا سکتا ہے اور یہ زمینی اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان میزائلوں کا استعمال ایران کی دفاعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گا اور یہ خطے میں امریکی بحریہ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
خبررساں ایجنسی نے 3 ایرانی حکومتی عہدے داروں اور 3 سکیورٹی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میزائل سسٹمز کی خریداری کے لیے چین کے ساتھ مذاکرات کم از کم 2 سال قبل شروع ہوئے تھے تاہم گزشتہ سال جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد ان مذاکرات میں تیزی آ ئی۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے سابق افسر اور اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز سے وابستہ ماہر ڈینی سٹرینووچز نے کہا کہ ’اگر ایران کے پاس خطے میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے سُپر سونک صلاحیت آ جاتی ہے تو اس سے کھیل مکمل طور پر بدل جائے گا۔ ان میزائلوں کو روکنا بہت مشکل ہے‘۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ایران کے اپنے اتحادیوں کے ساتھ فوجی اور سکیورٹی معاہدے ہیں اور یہ ان سے فائدہ اٹھانے کا مناسب وقت ہے۔
چین کی وزارت خارجہ نے رائٹرز کو بتایاکہ اسے اس ممکنہ میزائل فروخت سے متعلق مذاکرات کی کوئی معلومات نہیں جبکہ چین کی وزارت دفاع نے اس حوالے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سینئر محقق پیٹر ویزمین کے مطابق CM-302 کی خریداری گزشتہ سال کی جنگ میں متاثر ہونے والے ایران کے اسلحے کے ذخیرے میں نمایاں بہتری لائے گی۔


























Leave a Reply