آن لائن بڑے پیمانے پر شیئر کی جانے والی ایک دستاویز میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ رانا تنویر حسین کی ذاتی گاڑی موٹروے ٹول پلازوں پر ٹول ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہے۔
متعدد سوشل میڈیا صارفین نے وفاقی وزیر کو اس فیس کی ادائیگی سے مبینہ طور پر بچنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو عام شہریوں کے لیے ادا کرنا لازمی ہے۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
دعویٰ
3 فروری کو سوشل میڈیا پر ایک دستاویز گردش کرنے لگی جو مبینہ طور پر وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کی جانب سے جاری کی گئی تھی۔ اس خط میں مبینہ طور پر یہ کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن نمبر”LEE 4271“ والی ٹویوٹا کرولا (Toyota Corolla) ان کی ذاتی گاڑی ہے، لہٰذا ٹول ٹیکس کی وصولی کے لیے اسے ٹول پلازوں پر نہ روکا جائے۔
اس آرٹیکل کے شائع کئے جانے کے وقت تک پوسٹ کو 42 ہزار سے زائد بار دیکھا، 1 ہزار 100 مرتبہ لائک اور 536 دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔
اسی طرح کے دعوے فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر بھی شیئر کیے گئے۔
حقیقت
وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے ایسا کوئی خط جاری نہیں کیا گیا، اور نہ ہی ہائی وے حکام کو اس قسم کا کوئی استثنیٰ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر کے پبلک ریلیشنز آفیسر (PRO) شاہ فیصل نے جیو فیکٹ چیک کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی یہ دستاویز جعلی ہے۔
اس کے علاوہ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمیر سدوزئی نےجیو فیکٹ چیک کوٹیلی فون پر بتایا کہ اتھارٹی کے پاس اس دستاویز کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اور نہ ہی ہم نے ان کی گاڑی کو کوئی استثنیٰ دیا ہے۔“
قومی اسمبلی کے ڈائریکٹر جنرل (میڈیا اینڈ فوٹوگرافی) ظفر سلطان خان نے بھی جیو فیکٹ چیک کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ دستاویز من گھڑت اور جعلی ہے۔
ظفر سلطان خان نے کئی تضادات کی نشاندہی کی جیسا کہ خط پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے، جس سے اس کی اصلیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک وفاقی وزیر کے طور پر، رانا تنویر حسین سرکاری خط و کتابت کے لیے ذاتی لیٹر ہیڈ استعمال نہیں کریں گے؛ ایسی کوئی بھی خط و کتابت ان کی وزارت کے ذریعے جاری کی جائے گی، جو اس بات کی ایک اور نشانی ہے کہ یہ دستاویز جعلی ہے۔
اس بات پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ اس دستاویز میں کئی غلطیاں موجود ہیں۔ ”ٹول ٹیکس” کا ذکر کرنے کے بجائے اس میں ”ٹول پلازہ” لکھا گیا ہے۔ مزید برآں، پورے خط میں وفاقی وزیر کے نام کے ہجے (Spelling) بھی یکساں نہیں ہیں؛ کہیں اسے ”Tanveer” اور کہیں”Tanvir” لکھا گیا ہے۔
فیصلہ:انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی یہ دستاویز جعلی ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ٹول ٹیکس سے استثنیٰ دینے کے حوالے سے ایسی کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔

























Leave a Reply