پانی زندگی کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے اور اس کی کمی پورے جسم پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے۔
جسم میں پانی کی کمی کے لیے بہت زیادہ دوڑنے کی بھی ضرورت نہیں، کافی دیر تک پانی نہ پینا ہی جسم میں اس کی کمی کا باعث بن جاتا ہے۔
بالخصوص ماہ رمضان کے دوران ڈی ہائیڈریشن کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ سحر سے افطار تک پانی نہیں پی سکتے جبکہ مختلف کاموں کے دوران جسم کو محنت کرنا پڑتی ہے۔
طبی سائنس کے مطابق معمولی کمی یعنی جسم میں پانی کی مقدار کا ایک سے 2 فیصد حصہ کم ہونا بھی روزمرہ کے افعال کو سرانجام دینے کی صلاحیت بری طرح متاثر کرسکتا ہے۔
بدقسمتی سے ڈی ہائیڈریشن کے ابتدائی مراحل کو شناخت کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی سب سے عام علامات ایسی ہیں جو دیگر متعدد وجوہات کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں۔
عموماً پانی کی کمی کا عندیہ پیاس کے احساس سے ملتا ہے مگر کئی بار دیگر نشانیاں بھی سامنے آتی ہیں۔
سانس میں بو یا منہ خشک ہونا
ویسے ضروری نہیں کہ سانس میں بو پانی کی کمی کا نتیجہ ہی ہو، مگر یہ اس کی اہم نشانیوں سے میں ایک ضرورت ہے۔
جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو لعاب دہن بننے کا عمل بھی متاثر ہوتا ہے، جو منہ میں کھانے کے ذرات کے ٹکڑے کرنے اور صاف کرنے کا کام کرتا ہے۔
لعاب دہن سے ہونے والی صفائی متاثر ہونے سے بیکٹریا کی نشوونما ہوتی ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں، تو اگرافطار کے بعد پانی پینے سے بو ختم ہوجائے تو سمجھ لیں کہ جسم ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہورہا تھا۔
اسی طرح منہ خشک ہونے بھی جسم میں پانی کی کمی کی ایک اور ممکنہ علامت ہے، ویسے تو یہ بھی مختلف طبی مسائل کے باعث بھی ہوسکتا ہے، تاہم اگر منہ اکثر خشک یا چپچپا محسوس ہو، یا ہر وقت پیاس کا احساس ہو تو بہتر ہے کہ ڈاکٹر سے چیک کرالیں۔
مسلز کی تکلیف یا ان کا اکڑنا
طبی ماہرین کے مطابق جسمانی سرگرمی کے دورران اگر مسلز اکڑ جائے تو یہ ڈی ہائیڈریشن اور الیکٹرولائٹ کی کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے، کیونکہ جسم اہم منرلز جیسے سوڈیم اور پوٹاشیم کی کمی کا شکار ہوجاتا ہے۔
یہ منرلز جسم میں پانی کی سطح کا توازن بحال رکھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور اعصابی نظام کے افعال کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔
پانی کی کمی سے مسلز میں تکلیف یا اکڑنے کا مسئلہ صرف سخت جسمانی سرگرمیوں کے عادی افراد کو نہیں ہوتا، بلکہ چہل قدمی کے دورران ہی مسلز میں تکلیف یا کھچاؤ کا احساس ہو تو یہ بھی پانی کم پینے کی نشانی ہوسکتی ہے۔
سردرد
جی ہاں سردرد واقعی معمولی سے معتدل ڈی ہائیڈریشن کی عام علامت ہے، جس کی شدت قابل برداشت یا بہت زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
ڈی ہائیڈریشن سے آدھے سرکے درد کا مسئلہ بھی زیادہ متحرک ہوجاتا ہے، جس کی وجہ ابھی تک مکمل طور پر سامنے نہیں آسکی۔
تاہم محققین کے مطابق ڈی ہائیڈریشن سے عارضی طور پر دماغی ٹشوز سکڑ جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ سردرد کی شکل میں نکلتا ہے۔
پیشاب کی رنگت میں تبدیلی
یہ ڈی ہائیڈریشن کو پکڑنے کا آسان ترین ذریعہ بھی سمجھا جاسکتا ہے، بس پیشاب کی رنگت کو دیکھیں اگر وہ گہرے زرد رنگ کا ہے تو یہ جسم کا اشارہ ہے کہ پانی کی کمی ہو رہی ہے۔
جتنا زیادہ پانی پینا عادت بنائیں گے پیشاب کی رنگت اتنی زیادہ شفاف ہوگی، ہلکا پیلا رنگ ہائیڈریشن کا اشارہ دیتا ہے۔
سرچکرانا، متلی
اگر اچانک سرچکرانے لگے یا متلی کا احساس ہو تو ہوسکتا ہے کہ یہ کسی بیماری کا نتیجہ ہو، مگر یہ پانی کی کمی کا باعث بھی ہوسکتا ہے۔
فلو جیسی یہ علامات ڈی ہائیڈریشن کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہیں، جس میں لوگوں کو بخار یا ٹھنڈ لگنے کا احساس بھی ہوسکتا ہے، جو پانی کی بہت زیادہ کمی کا باعث ہوتا ہے۔
بھوک لگنا
پیاس اور تھکاوٹ ایک دوسرے سے منسلک ہوتے ہیں، کیونکہ ان کو دماغ کا ہی ایک حصہ کنٹرول کرتا ہے جو جسمانی درجہ حرارت کا بھی خیال رکھتا ہے۔
اگر کھانے کے کچھ دیر بعد ہی دوبارہ بھوک لگنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اصل میں بھوک نہیں پیاس ہو۔
تھکاوٹ
جسم میں پانی کی مناسب مقدار دن بھر توانائی کی سطح کو مستحکم رکھنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔
ہائیڈریشن سے جسم کو خلیات تک اہم اجزا پہنچانے میں مدد ملتی ہے اور اعضا اپنے افعال جاری رکھتے ہیں، مگر پانی کے کمی سے یہ افعال تھکاوٹ کا شکار کردیتے ہیں۔
اور ہاں پانی نیند کے معیار پر براہ راست اثرانداز ہونے والا عنصر ہے، جس کی کمی سے نیند پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون طبی جریدوں میں شائع تفصیلات پر مبنی ہے، قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ کریں۔


























Leave a Reply