برطانیہ میں بدھ 25 فروری سے دوہری شہریت کےحامل افراد کے لیے نئے قواعد نافذ ہوں گے، دُہری شہریت کے باوجود برطانوی پاسپورٹ نہ ہونے پر ملک میں داخلے سے روکا جاسکتا ہے۔
برطانوی پاسپورٹ کے بغیر ملک میں داخلے کے لیے الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن کروانا ہوگی، امریکا، کینیڈا اور فرانس سمیت 85 ممالک کے شہریوں کو بھی ای ویزا لینا ہوگا ۔
نئے قوانین کے مطابق برطانیہ آنے والے ایسے زائرین جن کے پاس برطانوی پاسپورٹ نہیں ہے، انہیں ملک میں داخل ہونے کے لیے ویزا، الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA)، یاسرٹیفکیٹ آف اینٹائٹلمنٹ (حقِ استحقاق کی دستاویز) کی ضرورت ہوگی۔
مسافروں کو ان دستاویزات کے بغیر فلائٹ، فیری یا ٹرین پر سوار ہونے سے روکے جانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور حکومت نے ممکنہ زائرین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنی مکمل دستاویزات تیار رکھیں۔امریکا، کینیڈا اور فرانس سمیت 85 ممالک کے شہریوں، جنہیں ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی، 25 فروری 2026 سے الیکٹرانک ٹریول آتھرائزیشن (ETA) کے بغیر قانونی طور پر برطانیہ کا سفر نہیں کر سکیں گے۔
امیگریشن سسٹم کو ڈیجیٹل بنانے کی جانب ایک اہم قدم:
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ امیگریشن سسٹم کو ڈیجیٹل بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور مستقبل میں برطانوی سرحد پرکنٹیکٹ لیس آمد و رفت کی راہ ہموار کرتا ہے۔
اکتوبر 2023 میں ETA کے آغاز سے اب تک 1.33 کروڑ سے زائد مسافر کامیابی کے ساتھ درخواست دے چکے ہیں اور تیز رفتار و پرسکون سفر سے مستفید ہوئے ہیں، اب ETA سفر کا ایک بنیادی حصہ بن چکا ہے، بشمول ان مسافروں کے لیے جو کنیکٹنگ فلائٹس (متبادل پروازوں) کے ذریعے آتے ہیں اور برطانوی پاسپورٹ کنٹرول سے گزرتے ہیں۔
برطانیہ میں وزیر برائے ہجرت و شہریت، مائیک ٹیپ نے کہاہے کہ”ETA ہمیں ان لوگوں کو روکنے کی زیادہ طاقت دیتا ہے جو ملک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور ہمیں امیگریشن کی ایک مکمل تصویر فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ETA مسافروں کے لیے بھی بہتر ہے، امیگریشن سسٹم کو ڈیجیٹل بنانا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ہر سال برطانیہ آنے والے لاکھوں افراد سفر کے زیادہ ہموار تجربے سے لطف اندوز ہوں۔ جب ETA متعارف کرایا جا رہا تھا، تو اسے سختی سے نافذ نہیں کیا گیا تھا تاکہ سیاحوں کو نئی ضرورت کے مطابق ڈھلنے کا کافی وقت مل سکے۔
ETA کے لیے درخواست دینا آفیشل’UK ETA‘ایپ کے ذریعے تیز اور آسان ہے
یہ وہی طریقہ کار ہے جو امریکا اور کینیڈا جیسے دیگر ممالک نے اپنی ٹریول اسکیموں کے لیے اپنایا تھا۔ETA کے لیے درخواست دینا آفیشل’UK ETA‘ایپ کے ذریعے تیز اور آسان ہے اور اس کی فیس 16 پاؤنڈ ہے جو کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں مناسب ہے۔
اگرچہ زیادہ تر لوگوں کو چند منٹوں میں خودکار طور پر فیصلہ مل جاتا ہے، لیکن مشورہ دیا جاتا ہے کہ ان چند کیسز کے لیے 3 ورکنگ ڈیز (کاری ایام) کا وقت رکھا جائے جن میں اضافی جانچ پڑتال کی ضرورت ہوتی ہے۔
برطانوی اور آئرش شہری، بشمول دوہری شہریت رکھنے والے ETA کی ضرورت سے مستثنیٰ ہیں۔
تاہم برطانوی حکومت دوہری برطانوی شہریت رکھنے والوں کو سختی سے مشورہ دیتی ہے کہ وہ 25 فروری 2026 سے برطانیہ کا سفر کرتے وقت بورڈنگ سے روکے جانے جیسے مسائل سے بچنے کے لیے اپنے پاس درست برطانوی پاسپورٹ یاسرٹیفکیٹ آف اینٹائٹلمنٹ کی موجودگی یقینی بنائیں۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ اکتوبر 2024 سے دوہری شہریت رکھنے والوں کو برطانیہ میں داخلے کے لیے درست دستاویزات رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور 2023 سے ETA کی تبدیلیوں کے بارے میں تشہیر کی جا رہی ہے۔
ایک ترجمان نے بتایا کہ “برطانوی پاسپورٹ یا سرٹیفکیٹ آف اینٹائٹلمنٹ کے بغیر، ٹرانسپورٹ کمپنیاں (کیریئرز) اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتیں کہ مسافر برطانوی شہری ہے، جس کی وجہ سے تاخیر ہو سکتی ہے یا بورڈنگ سے روکاجا سکتا ہے۔

























Leave a Reply