بنگلادیش کے 13ویں پارلیمانی انتخابات میں 299 نشستوں کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق بی این پی پارلیمانی انتخابات میں حامیوں کے ساتھ مل کر واضح اکثریت حاصل کرنےکی پوزیشن میں آگئی، رپورٹس کے مطابق 299 میں سے بی این پی کو 198 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
غیرمصدقہ نتائج کے مطابق خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کی قیادت میں پارٹی 151 نشستیں جیت چکی ہے، غیرسرکاری نتائج کے مطابق بی این پی چیئرمین طارق رحمان ڈھاکا اور بوگرہ دونوں نشستوں پر کامیاب قرار پائے۔
جماعت اسلامی 34 نشستیں اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی۔ مجموعی طور پر 43 نشستیں جیت کرجماعت کے مرکزی اپوزیشن پارٹی بننےکا امکان ہے جبکہ جین زی کی نیشنل سیٹیزن پارٹی کو اس وقت تک صرف دو نشستوں پر برتری حاصل ہے۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے کہا کہ منتخب ہوا تو جن کے ساتھ مل کر تحریک چلائی ان کے ساتھ مل کر ملک چلاؤں گا، امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کومحفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔
طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے۔
ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ آئینی حق ادا کرنے میں عوام نے بھرپورحصہ لیا۔
بنگلادیش میں انتخابات کیساتھ قومی ریفرنڈم
بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔ ڈھاکا سے اب تک کے نتائج کے مطابق 66 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائےگا۔
ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز مانگی گئی ہے۔


























Leave a Reply