بنگلادیش میں 13 ویں پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم اتحادوں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔
بنگلا دیش جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ نتائج کے اعلان تک اپنے اپنے پولنگ اسٹیشنوں کی حفاظت کریں تاکہ عوام کے ووٹ کا تحفظ کیا جا سکے۔
ڈاکٹرشفیق الرحمٰن نے کہا کہ اگر اللہ اپنے فضل و کرم سے انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے تو نہ کوئی جلوس نکالا جائے گا، نہ نعرے لگائے جائیں گے اور نہ ہی جشن منایا جائے گا، بلکہ سب لوگ سجدہ شکر ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا دل سے شکر ادا کریں گے اور قوم کی خدمت کے لیے صرف اللہ سے مدد طلب کریں گے۔
دوسری جانب ڈھاکا کے علاقے مغل بازار میں جماعتِ اسلامی کے مرکزی دفتر میں 11 جماعتوں کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں اتحاد نے انتخابات میں ووٹنگ کے عمل کو بہترین قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گا۔


























Leave a Reply