بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف کامیڈین اور اداکار راج پال یادیو کو تہاڑ جیل منتقل کردیا گیا۔
راج پال کے لیے دہلی ہائیکورٹ کا فیصلہ محض ایک قانونی حکم نہیں بلکہ مالی بدعہدی، عدالتی نرمی کے غلط استعمال اور وعدہ خلافی کی ایک طویل کہانی کا منطقی انجام بن گیا۔
تہاڑ جیل کے حکام اور قانونی ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ ان کی مستقبل میں رہائی واجبات سے مشروط ہے۔
چیک باؤنس کے متعدد مقدمات میں سزا یافتہ اداکار کو مزید مہلت دینے سے انکار کے بعد تہاڑ جیل میں خود سپردگی کرنا پڑی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق راج پال یادیو نے جمعرات کی دوپہر دہلی کی تہاڑ جیل کے حکام کے سامنے خود کو قانون کے حوالے کیا۔
دہلی ہائیکورٹ نے ان کی وہ درخواست مسترد کی تھی جس میں انہوں نے سزا معطلی کے تحت دی گئی خود سپردگی کی مدت میں مزید ایک ہفتے کی توسیع مانگی تھی۔
عدالت نے واضح کیا کہ اداکار کو پہلے ہی متعدد مواقع دیے جا چکے ہیں اور اب مزید نرمی کی کوئی گنجائش نہیں۔
2010 میں راج پال یادیو اور ان کی اہلیہ پر فلم اتا پتا لاپتا کی تیاری کے لیے مورالی پروجیکٹ سے 5 کروڑ روپے قرض لینے کا الزام لگا۔
کمپنی کے مطابق اداکار نے 8 کروڑ روپے واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم بعد ازاں یہ رقم 7 کروڑ پر طے پائی لیکن اس ادائیگی کے لیے جاری کیے گئے 7 چیک باؤنس ہو گئے جس کے بعد فوجداری مقدمات درج کیے گئے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق 7 الگ الگ مقدمات میں راج پال یادیو کو فی کیس 1.35 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔


























Leave a Reply