ویسے تو مانا جاتا ہے کہ جب بات نیند کی ہو تو دنیا میں 2 طرح کے افراد پائے جاتے ہیں، ایک علی الصبح جاگنے والے اور دوسرے رات گئے تک بیدار رہنے والے۔
مگر حقیقت میں بیداری اور نیند کے حوالے سے لوگوں میں 5 اقسام پائی جاتی ہیں۔
جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ رات گئے یا علی الصبح جاگنے کی بجائے بنیادی طور پر سونے اور جاگنے کے معمولات کی 5 اقسام یا ذیلی اقسام ہیں۔
اس تحقیق میں 27 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ ان تمام اقسام میں کیا فرق ہوتا ہے۔
یہ فرق درج ذیل ہے۔
رات گئے تک جاگنے والے (گروپ 1)
یہ ایسے افراد ہوتے ہیں جو رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں مگر طرز زندگی کے رویوں کے حوالے سے خطرناک عناصر کو اپناتے ہیں۔
ان کے لیے جذبات کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے مگر ذہنی طور پر تیز ہوتے ہیں اور ذہنی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
اس گروپ میں شامل افراد کے حوالے سے طرز زندگی کے کچھ عناصر جیسے بچوں کے ساتھ رہنا، تیز رفتاری سے ڈرائیو کرنا، موبائل فون کا زیدہ استعمال، تمباکو نوشی اور دن کی روشنی میں کم پھرنا وغیرہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
رات گئے تک جاگنے والے (گروپ 2)
یہ گروپ ایسے رات گئے تک جاگنے والے افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں، آمدنی زیادہ نہیں ہوتی جبکہ ورزش یا کھیلوں میں بھی زیادہ سرگرم نہیں ہوتے۔
یہ تمباکو نوشی کرتے ہیں، ڈپریشن کے شکار ہوتے ہیں جبکہ امراض قلب کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
رات گئے تک جاگنے والے (گروپ 3)
تیسرا گروپ ایسے افراد پر مشتمل ہوتا ہے جن میں مردوں کی اکثریت ہوتی ہے اور ان کے بال اڑ رہے ہوتے ہیں یا مثانے کے امراض کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ افراد بھی تمباکو نوشی کے عادی ہوتے ہیں اور خطرہ مول لینے سے ہچکچاتے نہیں۔
ڈپریشن اور ہائی بلڈ پریشر بھی اکثر عام ہوتے ہیں۔
علی الصبح جاگنے والے (گروپ 1)
یہ ایسے افراد ہوتے ہیں جو تعلیم سے جڑے ہوتے ہیں، تمباکو نوشی نہیں کرتے جبکہ خطرہ مول لینا پسند نہیں کرتے۔
ان افراد کو جذباتی مسائل کا بھی کم سامنا ہوتا ہے اور صبح جلد اٹھنے پر کچھ نروس اور فکرمند ہوتے ہیں مگر جذبات پر کنٹرول ہوتا ہے۔
ان افراد میں طبی مسائل کی شرح بھی کم ہوتی ہے۔
علی الصبح جاگنے والے (گروپ 2)
دوسرے گروپ میں خواتین کی اکثریت ہوتی ہے جن میں تعصب اور ڈپریشن کی علامات پائی جاتی ہیں ۔
محققین نے بتایا کہ یہ تمام اقسام نہ صرف سونے جاگنے کے وقت کا تعین کرتی ہیں بلکہ جینز، ماحولیات اور طرز زنگی کے عناصر کے پیچیدہ امتزاج کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہر فرد مختلف ہوتا ہے اور ہر فرد کے سونے جاگنے کے معمولات کے اپنے خطرات اور فوائد ہوتے ہیں، ایسا کوئی مثالی معمول نہیں جسے سب کے لیے بہترین قرار دیا جاسکے۔


























Leave a Reply