روس کی ملٹری انٹیلیجنس (جی آر یو) کے نائب سربراہ کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کرنے کے شبہے میں گرفتار شخص کو دبئی سے ماسکو منتقل کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق روسی سکیورٹی حکام اور تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں پیدا ہونے والا روسی شہری اس حملے میں ملوث ہونے کے الزام میں متحدہ عرب امارات سے روس کے حوالے کیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں کے مطابق روس کی ملٹری انٹیلیجنس ایجنسی جی آر یو کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ولادیمیر الیکسییف کو جمعے کے روز شمالی ماسکو کے ایک اپارٹمنٹ بلاک میں سائلنسر لگے ماکاروف پستول سے 3 گولیاں ماری گئیں۔
روسی میڈیا کے مطابق 64 سالہ الیکسییف کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔
روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے ایک بیان میں کہا کہ لیوبومیر کوربا نامی روسی شہری کو دبئی میں گرفتار کیا گیا اور اس پر شبہہ ہے کہ اس نے روسی جنرل پر فائرنگ کی۔
روسی تفتیش کاروں کے مطابق کوربا 1960 میں سوویت یوکرین کے ترنوپول علاقے میں پیدا ہوا تھا اور اسے یوکرینی خفیہ اداروں کی جانب سے یہ حملہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ روس نے الزام عائد کیا ہے کہ اس حملے کے پیچھے یوکرین کا ہاتھ ہے، تاہم یوکرین نے اس کی تردید کی ہے۔
روسی میڈیا پر نشر ہونے ہونے والی فوٹیج میں نقاب پوش ایف ایس بی اہلکار ایک چھوٹے طیارے سے ایک شخص کو اتارتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جس کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔
ایف ایس بی کا کہنا ہے کہ اس نے دو مزید معاون ملزمان کی بھی نشاندہی کی ہے، جو دونوں روسی شہری ہیں، ایک ملزم وکٹر واسن کو ماسکو میں گرفتار کیا گیا جبکہ دوسری ملزمہ زینائدا سیریبریتسکایا فرار ہو کر یوکرین چلی گئی۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق فوری طور پر ملزمان سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوکسی جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی یہ واضح نہیں کیا کہ کوربا کو کس طرح گرفتار کیا گیا۔
دوسری جانب کوربا کی گرفتاری کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ہفتے کی شام ٹیلی فون پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا شکریہ ادا کیا۔
روسی خبررساں ایجنسی نے کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے بتایا کہ پیوٹن نے روسی ملٹری انٹیلیجنس کے نائب سربراہ پر حملے کے مشتبہ ملزم کی گرفتاری میں تعاون پر متحدہ عرب امارات کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔


























Leave a Reply