انڈوں میں صحت کے لیے اہم متعدد ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں۔
ان میں پروٹین اور صحت بخش چکنائی بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے انہیں ناشتے کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے۔
مگر ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ انڈوں میں موجود ایک جز دماغی عمر کی رفتار کو سست اور مجموعی صحت کو بہتر بناتا ہے۔
یہ جز کولین ہے۔
جرنل ایجنگ اینڈ ڈیزیز میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد کے خون میں کولین کی سطح صحت مند جسمانی وزن کے مالک افراد کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم ہوتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ جسم میں کولین کی سطح میں کمی انسولین کی بدترین مزاحمت، ورم اور جگر کے افعال میں ناکامی کا باعث بنتی ہے اور یہ تمام عناصر الزائمر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اثر موٹاپے کے شکار افراد میں بہت زیادہ دیکھنے میں آتا ہے جبکہ ہم نے یہ بھی دریافت کیا کہ الزائمر امراض سے متاثر ہونے سے کافی برس قبل ہی جسم میں کولین کی سطح گھٹ جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اگر کولین سے بھرپور غذاؤں جیسے انڈوں کا استعمال معمول بنایا جائے تو میٹابولک اور دماغی امراض کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔
اس تحقیق میں موٹاپے کے شکار جوان افراد کو شامل کیا گیا تھا اور پھر ان کے ڈیٹا کا موازنہ دماغی تنزلی کے شکار معمر افراد کے ڈیٹا سے کیا گیا۔
محققین کے مطابق شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ جوانی میں میٹابولک تناؤ سے بعد کی زندگی میں دماغ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
مگر انہوں نے کہا کہ نتائج کو ابھی حتمی نہیں قرار دیا جاسکتا اور اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
انڈوں کے علاوہ کلیجی، گوبھی، بیجوں، مونگ پھلی، گوشت، مرغی کے گوشت، مچھلی، دودھ یا اس سے بنی مصنوعات سے بھی کولین کا حصول ممکن ہے۔


























Leave a Reply