سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے جس میں مبینہ طور پر اپوزیشن جماعت، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک حامی کو ایک رپورٹر سے گفتگو کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو میں مذکورہ شخص سابق وزیراعظم عمران خان سے اپنی انتہائی عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ان کی خاطر اپنی بیوی اور بیٹیوں تک کو قربان کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس کلپ نے آن لائن بڑے پیمانے پر بحث چھیڑ دی ہے، جہاں متعدد صارفین نے پارٹی پر اندھی تقلید (cult-like) طرز کی پیروی کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ دعویٰ بالکل غلط ہے۔ یہ انٹرویو من گھڑت ہے اور اسے عوامی سطح پر دستیاب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) ٹولز کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔
دعویٰ
21 جنوری کو، سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف نے 13 سیکنڈ کی ایک ویڈیو شیئر کی جس میں بظاہر ایک باپ کو اپنی دو چھوٹی بیٹیوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے جلسے میں کھڑا دیکھا جا سکتا ہے۔ اس ویڈیو کا کیپشن تھا: ”شعور کی یہ وہ آخری حد ہے، جس کے بعد شعور بندے سے خود پوچھتا ہے بتا بے غیرتا تیری رضا کیا ہے اور کتنا بےغیرت بنے گا۔“
ویڈیو کے مناظر میں ایک رپورٹر اس شخص سے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اس کی وفاداری کی حد کے بارے میں سوال پوچھ رہا ہے۔
رپورٹر: ”سر، اگر عمران خان صاحب آپ سے آپ کی دونوں بیٹیاں مانگ لے تو کیا آپ دے دو گے۔“
شخص: ”مرشد عمران خان ان دونوں کے علاوہ اگر میری بیوی بھی مانگے تو میں وہ بھی دے دوں گا میرا مرشد خوش ہونا چاہیے۔“
اس آرٹیکل کے شائع کئے جانے کے وقت تک پوسٹ کو21ہزار سے زائد بار دیکھا، 600 مرتبہ لائک اور416 دفعہ ری پوسٹ کیا گیا۔
اسی طرح کے دعوے فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر بھی یہاں، یہاں اور یہاں پر شیئر کیے گئے۔
حقیقت
آزادانہ تصدیق اور متعدد اے آئی (AI) شناختی ٹولز نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ ویڈیو جعلی ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے اس کلپ کا بغور جائزہ لیا اور اس میں اے آئی (AI) کی مدد سے کی جانے والی چھیڑ چھاڑ کی کئی نشانیاں پائیں۔ خاص طور پر، رپورٹر کے مائیکروفون اور بچوں کے کپڑوں پر نظر آنے والی اردو تحریر بگڑی ہوئی اور بے معنی ہے۔ اس کے علاوہ، جو لوگو مائیک پر نظر آ رہا ہے وہی انٹرویو دینے والے شخص کی ٹوپی پر بھی دکھائی دیتا ہے، یہ ایک ایسا تضاد ہے جو عام طور پر اے آئی سے تیار کردہ مناظر میں پایا جاتا ہے۔
یہ تمام عناصر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ویڈیو اصلی نہیں ہے۔
جیو فیکٹ چیک نے اے آئی مواد کی شناخت کرنے والے پلیٹ فارم ہائیو ماڈریشن (Hive Moderation) کے ذریعے بھی اس فوٹیج کا تجزیہ کیا، جس نے اسے 97.3 فیصد اسکور دیا، جو اس کے اے آئی سے بنے ہونے یاڈیپ فیک ہونے کے قوی امکان کی نشاندہی کرتا ہے۔ مزید برآں، یونیورسٹی ایٹ بفیلو (University at Buffalo) کے تیار کردہ ٹولڈیپ فیک-او-میٹر (DeepFake-O-Meter) نے اس کلپ کے بارے میں99.9 فیصد یقین کے ساتھ یہ تشخیص کی کہ اسے اے آئی کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
فیصلہ: یہ ویڈیو ایک ڈیپ فیک (Deepfake) ہے جسے اے آئی (AI) ٹولز کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے آڈیو اور ویڈیو، دونوں اجزاء ایک گمراہ کن اور سنسنی خیز بیانیہ کو فروغ دینے کے لیے من گھڑت طریقے سے بنائے گئے ہیں۔
ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔


























Leave a Reply