کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں عمارت زمین بوس ہو گئی۔ افسوسناک واقعے میں 86افراد جاں بحق ہوئے جبکہ کئی ابھی لاپتہ ہیں ۔ آتشزدگی سے متعلق کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنر ساؤ تھ کی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو پیش کر دی گئی ہے، جس کے مطابق آگ کے باعث 1200سے زائد دکانیں جل کر خاکستر ہو گئیں۔ یہ ایک دلخراش سانحہ ہے، جس نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع، درجنوں افراد کے زخمی ہونے اور متعدد افراد کے لاپتہ ہونے کی صورت میں پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سینکڑوں خاندان اپنے روزگار اور جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔ حکومتی سطح پر اظہارِ افسوس، نوٹس اور امدادی اقدامات اپنی جگہ، مگر اصل سوال یہ ہے کہ ایسے سانحات بار بار کیوں جنم لیتے ہیں؟ جب تک قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور غفلت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار نہیں کی جاتی، تب تک ایسے سانحات ہوتے رہیں گے۔ یہ وقت محض افسوس کا ہی نہیں بلکہ سنجیدہ، فوری اور عملی اصلاحات کا ہے۔
کراچی کے ایک تجارتی پلازے میں پیش آنے والا ہولناک آتشزدگی کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے مجموعی انتظامی نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ یہ سانحہ ایک ایسا المیہ ہے جو صرف متاثرہ خاندانوں ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سے لوگوں کو متاثر کرئیگا۔ اس واقعے پر سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے حکومتی نا اہلی کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے واک آؤٹ کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ معاملہ محض ایک حادثاتی خبر نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی اور انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے ایک ایک کروڑ روپے کی امداد کا اعلان یقیناً ایک فوری ریلیف ہے، تاہم سوال یہ ہے کہ کیا مالی امداد قیمتی انسانی جانوں کا نعم البدل ہو سکتی ہے؟ اصل مسئلہ امدادی اعلانات سے کہیں زیادہ گہرا اور بنیادی نوعیت کا ہے۔
سانحے کے بعد جو حقائق سامنے آ رہے ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متعلقہ اداروں کی غفلت، ناقص نگرانی اور قوانین پر عمل درآمد کی کمی نے اس المیے کو جنم دیا۔ تجارتی پلازے میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات، ہنگامی اخراج کے راستے، فائر سیفٹی سرٹیفکیشن اور عمارت کے نقشے کی منظوری جیسے بنیادی امور اگر سنجیدگی سے دیکھے جاتے تو شاید قیمتی جانیں بچ جاتیں۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی کراچی اور دیگر شہروں میں ایسے کئی سانحات رونما ہو چکے ہیں مگر ہر بار ایسے معاملات کی تحقیقات کی فائلیں بند ہو جاتی ہیں اور ذمہ داران قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔
یہ صورتحال ادارہ جاتی احتساب کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز، فائر بریگیڈ، بلدیاتی ادارے اور ضلعی انتظامیہ سب کی کارکردگی سے متعلق غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ محض نچلے درجے کے اہلکاروں کو معطل کرنا یا تبادلے کرنا کافی نہیں بلکہ ان پالیسی سازوں اور افسران کو بھی جوابدہ بنایا جانا چاہیے جن کی غفلت یا خاموشی نے اس خطرناک سانحے کو جنم دیا۔ عمارتوں کی تعمیر اور استعمال کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد، فائر سیفٹی کے جدید تقاضوں کو لازمی قرار دینا، باقاعدہ آڈٹ کا نظام متعارف کرانا اور قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی پر فوری اور سخت سزائیں دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری سے غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض تعزیتی بیانات اور امدادی پیکیجز سے آگے بڑھیں اور ایک محفوظ، جوابدہ اور مؤثر نظام کی تشکیل کیلئے عملی اقدامات کریں تاکہ مستقبل میں کوئی اور خاندان اس طرح کے ناقابل تلافی نقصان سے دوچار نہ ہو۔
دکان داروں کو اعلان کردہ معاوضہ انکوائری عمل ہونے کے بعد ہی مل سکے گا۔ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو ایک کروڑ دینے کی حتمی منظوری سندھ کا بینہ دے گی۔ ماضی میں سانحہ کو آپریٹیو مارکیٹ کے متاثرین کو حق کیلئے بھوک ہڑتال کرنا پڑی تھی۔ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کی امداد میں بھی تاخیر کاخدشہ ہے۔
ماضی کے ریکا رڈ کو دیکھا جائے تو کسی سانحے میں جاں بحق افراد کے ورثاکو امداد کیلئے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ اگر ماضی کی بہ نسبت اس بارسندھ حکومت نے سستی نہیں دکھائی تو شاید متاثرین کو بر وقت یہ امدادمل جائے۔گل پلازہ کےختم ہو جانے سے صرف 1200دکا ندار متاثر نہیں ہوئے بلکہ اس سے 20 ہزار سے زائد افرادمالی طور پربراہ ر است متاثر ہوئے ہیں۔ کیونکہ 1200افراد تو وہ ہیں جن کی دکانیں تھیں۔ ہر دکان پر 2 سے 3 ملازمین بھی ہوتے ہیں۔ اوسطاََفی دکان پر 2 ملازم بھی ہوں تو دکانداروں سمیت ان کی تعداد 3 ہزار بنتی ہے۔ میری فیلڈ مارشل سے گزارش ہے کہ وہ کراچی کےمعاملات پر خصوصی توجہ دیں۔
ابھی تک سندھ حکومت میں سے کسی ایک شخص نے استعفیٰ نہیں دیااور اتنی جانیں چلی گئیں۔ اربوں روپے کا نقصان ہوگیا اور ایک، ایک کروڑ دے کر بہلا رہے ہیں۔تاجر اب نہیں مانیں گے،کیونکہ پانی سر سے اوپر جا چکا ہے اور اب گنجائش کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی صبر کی ضرورت ہے۔بھلا ایک کروڑ ایک انسان کی زندگی کی قیمت ہوتی ہے، ہرگز نہیں۔؟گل پلازہ سانحہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تمام شاپنگ مال کے باہر ہائیڈرنٹ لگانے کا حکم دیا ہے اور لگائے بھی جا رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں سانحہ ہو چکا ہے مگر ہائیڈرنٹ نہیں لگائے جا رہے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔


























Leave a Reply