لاہور بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات پر مشکورہوں، مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں، پیسوں سے میرے بچوں کو ماں تو نہیں مل سکتی۔
سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے شورکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 نے بیوی اور بیٹی کے گٹر میں گرنے کو فیک کہا، ایس ایچ او زین نے تھانے میں مجھ پر تشدد کیا، پولیس مجھ سے بیوی اور بیٹی کو غائب کرنے کا اعتراف کرواتی رہی۔
غلام مرتضیٰ نے کہا کہ ڈی آئی جی نے علم ہونے پر ماتحت افسران کو ڈانٹا، ڈی آئی جی کو حقائق بتانے پر ایس ایچ او نے دھمکیاں دیں ،پولیس جھوٹ بولتی رہی کہ میں سیف سٹی کے کیمروں میں نظر نہیں آیا۔
جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے اقدامات پر مشکورہوں مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں ، ایک کروڑ روپے سے میرے بچوں کو ان کی ماں تو نہیں مل سکتی ۔
یاد رہے کہ لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھی۔
تاہم ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اس خبر کو غلط قرار دیتے رہے اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔
واقعہ کے بعد وزیراعلیٰ مریم نواز پنجاب کے متعلقہ اداروں پر برہم ہوگئیں اور کمشنر لاہور، اسسٹنٹ کمشنر، واسا، ایل ڈی اے ، ڈپٹی کمشنر لاہور، ٹریفک پولیس اور پولیس کو برابر کا ذمہ دار قرار دیا۔
جس کے بعد ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گرنے کے واقعہ کے مقدمے میں نامزد 3 ملزمان گرفتار کرلیے گئے۔


























Leave a Reply